Local

ملک محمد عامر چیف ایگزیکٹو افیسر ضلع رحیم یار خان کو سیکرٹری سکول نے ڈسپوزل پر لے لیا

رحیم یار خان ملک محمد عامر ایک ایماندار اور فرض شناس آفیسر ملک عامرکا تبادلہ اور رحیم یارخان کی پریشانیاں!

رحیم یارخان میں محکمہ تعلیم کے چیف ایگزیکٹو افسر ملک محمد عامر کا اچانک تبادلہ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ لاہور کر دیا گیا ہے۔ یہ خبر جہاں محکمہ تعلیم کے اندر ایک بڑی تبدیلی سمجھی جا رہی ہے، وہیں ضلع کے اساتذہ، کلرکوں، چپڑاسیوں اور بالخصوص اسکولوں کی تعمیر و ترقی سے وابستہ تمام طبقات میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے۔

ملک محمد عامر کا شمار ان آفیسروں میں ہوتا ہے جو اپنی دیانتداری، فرض شناسی اور خدمت کے جذبے کی بدولت ایک منفرد پہچان رکھتے ہیں۔ ان کے دور میں ضلع بھر میں تعلیمی ماحول میں قابلِ رشک بہتری آئی، اسکولوں کی تعمیراتی اسکیموں کو بے مثال شفافیت کے ساتھ مکمل کیا گیا اور نچلی سطح تک تعلیمی عملے کو عزت اور وقار ملا۔ ان کے کھرے انداز اور اصولی مؤقف نے محکمہ تعلیم کو ایک مضبوط سمت عطا کی۔

تاہم اچانک تبادلے نے کئی اہم سوالات جنم دیے ہیں۔ کیا واقعی ایسا کوئی ایشو درپیش تھا جس نے ایک ایماندار افسر کو اس طرح فوری طور پر تبدیل کرنے پر مجبور کیا؟ یا یہ تبادلہ روایتی انتظامی دباؤ اور کچھ حلقوں کے ذاتی مفادات کا شاخسانہ ہے؟ یہ سوال آج رحیم یارخان کے تعلیمی حلقوں میں شدت سے گردش کر رہا ہے۔

زیرِ زمین معلومات کے مطابق، تعلیمی مافیا، جس کے مفادات ہمیشہ ایماندار افسروں کے راستے میں رکاوٹ بنتے ہیں، اس تبدیلی کے پیچھے کارفرما ہے۔ وہ مافیا جو تعمیراتی ٹھیکوں میں من پسند افراد کو نوازنے اور اسکولوں کے فنڈز پر قابض رہنے کی خواہش رکھتا ہے، اس کے سامنے ایک اصول پسند افسر سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ سیاسی دباؤ اور مفاد پرستی کی یہ روش نئی نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ آخر ریاست کب تک اس مافیا کے ہاتھوں یرغمال رہے گی؟

اس تبادلے کے ممکنہ نقصانات بھی کم نہیں۔ ایک جانب تعلیمی ترقی کے جاری منصوبے متاثر ہو سکتے ہیں تو دوسری جانب اساتذہ اور دیگر عملے کا حوصلہ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ ایک افسر کے ایماندار اور شفاف رویے سے محکمہ کے ماتحت عملہ عزت محسوس کرتا ہے، لیکن ان کے جانے سے یہ احساس کمزور ہو جائے گا۔ نئی تعیناتی کے آنے تک کئی امور تعطل کا شکار رہنے کا خدشہ ہے، اور یہ خلاء تعلیمی ڈھانچے کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔

رحیم یارخان جیسے پسماندہ ضلع کو ایسے ہی مخلص اور فرض شناس افسروں کی شدید ضرورت ہے۔ ملک محمد عامر کا تبادلہ جہاں ایک افسوس ناک حقیقت ہے، وہیں یہ سوال بھی چھوڑ گیا ہے کہ کیا ہمارے تعلیمی نظام میں ایمانداری اور خدمت کا صلہ ہمیشہ یہی ہوگا؟

عوامی حلقوں، اہل علاقہ اور شہریوں کا یک زبان مطالبہ ہے کہ ملک عامر صاحب کو فوری طور پر دوبارہ ضلع رحیم یار خان کا سی ای او تعینات کیا جائے۔ ان کی واپسی نہ صرف تعلیمی ترقی کے لیے ضروری ہے بلکہ یہ پیغام دے گی کہ ایماندار آفسروں کو ان کی خدمات کا مناسب صلہ ملتا ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس اہم معاملے پر فوری توجہ دیں۔ اگر واقعی کوئی ٹھوس وجہ موجود ہے تو اس کی شفاف انداز میں وضاحت کی جائے، اور اگر یہ فیصلہ محض رسمی یا ذاتی دباؤ کے نتیجے میں لیا گیا ہے تو اسے فوری واپس لیا جائے۔

رحیم یارخان کے عوام کے ساتھ ساتھ پورے صوبے کی تعلیمی ترقی کا دارومدار ایسے ہی ایماندار اور قابل افسروں کی خدمات پر ہے۔ آئیے مل کر تعلیمی نظام میں شفافیت اور احتساب کو فروغ دیں اور یہ واضح کریں کہ دیانتداری ہی ہمارا قومی شعار ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button