Grade 8 Urdu PECTAA Model Paper 6 – 2nd Half Book Test (Chapters 11–20)
Urdu 8 Class Model Paper second half book PECTAA

Grade 8 Urdu PECTAA Model Paper 6 is designed to help students prepare for their annual examinations according to the new syllabus issued by PECTAA Punjab. This paper covers the second half of the Grade 8 Urdu book, including Chapters 11 to 20, as part of the chapter-wise test series for PECTAA Board 2027 Model Papers. Students can use this Urdu second-half book test to revise important textbook content, assess their understanding, and strengthen their examination preparation. Teachers can also use this model paper for classroom assessments and revision activities in preparation for the Grade 8 Urdu annual examination 2027.
MODEL PAPER URDU GRADE-8
EXAMINATION 2025-26, PART – A (OBJECTIVE TYPE)
Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks
| Student Name (In Capital Letters) | |
| Roll Number (In Figures) | –– |
| For Official Use Only | |
|---|---|
| Total Marks MCQs | |
| Signature of Assistant | |
| Signature of Head Examiner | |
خصوصی ہدایات: اس پرچے میں چالیس (40) کثیر الانتخابی سوالات دیے گئے ہیں۔ ہر سوال ایک (01) نمبر پر مشتمل ہے۔
| زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب! | علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب! |
| ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنا | دردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا |
| میرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کو | نیک جو راہ ہو، اس رہ پہ چلانا مجھ کو |
MODEL PAPER URDU GRADE-8
EXAMINATION 2025-26, PART – B (SUBJECTIVE TYPE)
Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks
| Student Name (In Capital Letters) | |
| Roll Number (In Figures) | –– |
| Q. No. | Marks | Signature of Sub-Examiner | Signature of | |
|---|---|---|---|---|
| Assistant | Head Examiner | |||
| 41 | ||||
| 42 | ||||
| 43 | ||||
| 44 | ||||
| 45 | ||||
| Total | For official use only | |||
- i.مشابہ الفاظ کی تعریف اور ایک مثال بیان کریں۔
- ii.“تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے اس کی درست شکل کیا ہے؟
- iii.اسما کی تذکیر و تانیث کے حوالے سے “ا”، “ی”، “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کی عام پہچان کیا ہے؟
- iv.لغت (dictionary) کسے کہتے ہیں اور اس میں الفاظ کو کس ترتیب سے رکھا جاتا ہے؟
- v.ہاکی کس میدان میں کھیلی جاتی ہے؟
- vi.موسم بہار میں کون سی نمائش منعقد کی جاتی ہے؟
- vii.اسلام سے قبل عربوں کے کیا حالات تھے؟
- viii.مایوسیوں میں امید کے نغمے کس طرح چھیڑے جا سکتے ہیں؟
- ix.علامہ اقبالؒ کی تین کتابوں کے نام بتائیں۔
- x.کرپشن کی چند صورتیں بیان کریں۔
- xi.ایسے ممالک کے نام لکھیں جو سارا سال گرم رہتے ہیں؟
- xii.کھیل کیوں اہم ہوتے ہیں؟
- xiii.آپ کو سب سے زیادہ کون سا موسم پسند ہے؟
سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔
i. مشابہ الفاظ کی تعریف اور ایک مثال بیان کریں۔
جواب: مشابہ الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کی آوازیں ایک جیسی ہوں لیکن ان کی املا (Spelling) اور معانی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں۔ مثال: ہال (بڑا کمرہ) اور حال (کیفیت / حالت)۔
ii. “تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے اس کی درست شکل کیا ہے؟
جواب: “تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے غلط ہے، اس کی درست شکل یہ ہے: “تم نے میرے کام میں ٹانگ اڑائی”۔
iii. اسما کی تذکیر و تانیث کے حوالے سے “ا”، “ی”، “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کی عام پہچان کیا ہے؟
جواب: بعض اوقات جن الفاظ کے آخر میں “ا”، “ی”، “ہ” ہو تو وہ عام طور پر مذکر ہوتے ہیں (جیسے دروازہ، بچہ)۔
iv. لغت (dictionary) کسے کہتے ہیں اور اس میں الفاظ کو کس ترتیب سے رکھا جاتا ہے؟
جواب: لغت وہ کتاب ہے جس میں زبان کے الفاظ کے معانی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں الفاظ کو حروف تہجی کی ترتیب کے لحاظ سے شامل کیا جاتا ہے۔
v. ہاکی کس میدان میں کھیلی جاتی ہے؟
جواب: ہاکی گراؤنڈ اور برف پر کھیلی جاتی ہے۔
vi. موسم بہار میں کون سی نمائش منعقد کی جاتی ہے؟
جواب: موسم بہار میں پھولوں کی نمائش منعقد کی جاتی ہے۔
vii. اسلام سے قبل عربوں کے کیا حالات تھے؟
جواب: اگر ہم آغاز اسلام کے وقت سرزمین حجاز پر عربوں کی حالت زار کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس دور جہالت میں عورتوں کے کوئی حقوق نہ تھے۔
viii. مایوسیوں میں امید کے نغمے کس طرح چھیڑے جا سکتے ہیں؟
جواب: زندگی کا لطف اٹھانے کی مسلسل کوشش سے مایوسیوں میں امید کے نغمے چھیڑے جا سکتے ہیں۔
ix. علامہ اقبالؒ کی تین کتابوں کے نام بتائیں۔
جواب: علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تین کتابوں کے نام درج ذیل ہیں: (i) ضرب کلیم (ii) بانگ درا (iii) ارمغان حجاز۔
x. کرپشن کی چند صورتیں بیان کریں۔
جواب: چھوٹے یا بڑے پیمانے پر مالیاتی ہیرا پھیری، غبن، دھوکا، فریب، جھوٹ، بے قاعدگی سے مال بنانا کرپشن کی چند معروف صورتیں ہیں۔
xi. ایسے ممالک کے نام لکھیں جو سارا سال گرم رہتے ہیں؟
جواب: سعودی عرب، کویت، قطر وغیرہ۔
xii. کھیل کیوں اہم ہوتے ہیں؟
جواب: ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کھیلوں سے صحت بہتر ہوتی ہے۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ کھلاڑی عام افراد کی نسبت زیادہ صحت مند، تیز اور چاق و چوبند ہوتے ہیں۔ اس لیے کھیل ہر کسی کے لیے ضروری ہیں۔
xiii. آپ کو سب سے زیادہ کون سا موسم پسند ہے؟
جواب: مجھے سب سے زیادہ بہار کا موسم پسند ہے۔
درست جملے:
سوال 43. کسی ایک سبق کا خلاصہ لکھیں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔
(الف) کرپشن ایک سماجی برائی
نوٹ: اس کے جواب کے لیے چیپٹر وائز سوال 43 کا انشائیہ سوال 43 کا جواب دیکھیے۔
(ب) خواتین کا احترام
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور ساتھ ہی مرد و زن کے حقوق و فرائض بھی متعین کیے۔ ظہور اسلام سے پہلے عرب کے معاشرے میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں عورتوں کو حقوق حاصل نہ تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کی بجائے سوگ کا سماں ہوتا تھا اور بعض لوگ بیٹی کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ عورت کی عزت نہیں کی جاتی تھی۔
جہالت کے اندھیروں میں نور کی شمع بن کر حضور نبی کریم ﷺ نے عرب کو جھنجھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے عربوں کو عورتوں کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ عربوں کا ذہن بدلنے لگا۔ اسلام کا نور ان کو روشن کرنے لگا۔ پیارے آقا کریم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت و شفقت فرمائی۔ ان کے آنے پر کھڑے ہو کر بیٹی کی عزت کو بڑھایا۔ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو جس عزت و تکریم سے نوازا، وہ رہتی دنیا تک نمونہ ہے۔ بیٹی کو خاندان کے لیے عزت اور باعث رحمت قرار دیا اور قیامت کے دن والدین کے لیے باعث شفاعت فرمایا۔ بیٹی کی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت دی۔
اسلام نے ماں کو بلند مقام عطا فرمایا۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر عورت کو اللہ نے بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ اسلام نے مرد کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ہر ضرورت کا خیال کرے۔ نرمی و شفقت کے ساتھ پیش آئے۔ بیٹی اور بیٹے میں کسی قسم کا فرق نہ رکھے۔ اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت و احترام کے قابل ٹھہرایا ہے۔
آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبہ زندگی میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ آج کی عورت ڈاکٹر بھی ہے، انجینئر، کمپیوٹر کی ماہر اور قابل استاد بھی ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہے۔ ایک فائٹر پائلٹ مریم مختار جو طیارے کے حادثے میں شہید ہوئیں، اس بات کی علامت ہیں کہ عورتیں کسی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں۔
لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کچھ لوگ ان تعلیمات کے باوجود عورت کو اس کا جائز حق نہیں دیتے۔ اسے اس کے والد کی وراثت سے محروم رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی شادی محض اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں زمین میں حصہ دینا پڑے گا۔ حکومت کے ساتھ فلاحی تنظیمیں اس کے لیے کوشاں ہیں، مگر معاشرے میں ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا۔
سوال 44. اپنے دوست کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے خط لکھیں۔ (سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے)
لاہور
تاریخ: ……….
پیارے دوست!
السلام علیکم! آج آپ کا خط موصول ہوا۔ آپ نے لکھا ہے کہ 13 مارچ کو آپ کی چودھویں سالگرہ ہے جو نہایت سادگی مگر پروقار طریقے سے منائی جا رہی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اس مبارک تقریب میں خود شمولیت کروں لیکن امتحان کی مصروفیت کی وجہ سے نہیں آ سکتا۔ امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے اور میری غیر حاضری محسوس نہیں کریں گے۔
اس مبارک موقع پر میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور آپ کی زندگی میں خوشی کا یہ دن بار بار آتا رہے۔ نانی جان اور خالہ جان کیسی ہیں؟ ان کی خدمت میں میری طرف سے سلام عرض کر دیں۔ فاطمہ کو بہت بہت پیار۔
والسلام
آپ کا دوست
ا۔ ب۔ ج
یا: “اتفاق میں برکت” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شکاری نے جال بچھایا۔ جال کے نیچے دانے بکھیرے اور خود دور جا کر پرندوں کے جال میں پھنسنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد کبوتروں کا ایک غول وہاں سے گزرا۔ نیچے نظر دوڑائی تو دانے بکھرے ہوئے دکھائی دیے۔ کبوتر بہت خوش ہوئے اور دانہ چگنے کے لیے نیچے اترنے لگے۔
ایک دانا کبوتر نے انھیں منع کیا کہ ان بکھرے ہوئے دانوں میں کوئی راز ہے، ہو سکتا ہے شکاری نے جال بچھا رکھا ہو۔ مگر کسی نے ان کی نہ سنی اور زمین پر اترنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی انھوں نے دانہ چگنا شروع کیا وہ جال میں پھنس گئے۔ دانا کبوتر نے کہا: “میں نے پہلے ہی کہا تھا مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ لیکن خیر اب بھی وقت ہے، ہمت کر کے سب مل کر جال کو لے کر اڑ جاؤ۔”
اتنی دیر میں دور سے شکاری آتا دکھائی دیا۔ سب نے سوچا کہ اب ہمت نہ کی تو ہماری خیر نہیں۔ سب نے دانا کبوتر کی بات پر عمل کیا، زور لگایا اور جال لے کر اڑ گئے۔ شکاری حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ کچھ دور جا کر ایک درخت کے قریب پہنچ کر نیچے اترے، جال شاخوں میں پھنس گیا اور کبوتر آزاد ہو گئے۔
اخلاقی سبق: اتفاق میں برکت ہے۔
سوال 45. کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔
(الف) والدین کی خدمت
سب سے قریبی اور بے حد قابل احترام رشتہ ماں باپ کا ہوتا ہے۔ شیر خوار بچہ کتنا کمزور اور لاچار ہوتا ہے! خود لباس نہیں پہن سکتا اور نہ کھا سکتا ہے۔ جہاں پڑا ہو وہیں پڑا رہتا ہے۔ ہر طرح سے وہ ماں باپ کی توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ جوان ہونے تک ماں باپ اس کی پرورش کرتے ہیں۔ اس کی ہر سہولت کا خیال رکھتے ہیں۔ بیمار ہو جائے تو اس کے علاج کے لیے ہر کوشش کرتے ہیں۔ بچہ جب تک صحت یاب نہ ہو، وہ اس کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ خود کھائیں نہ کھائیں لیکن اسے ضرور کھلاتے ہیں۔ اپنی اولاد کو اچھا کپڑا پہناتے ہیں۔ اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تاکہ بڑا ہو کر وہ عزت اور سکون سے زندگی بسر کرے۔
ماں باپ ایک دن بوڑھے اور اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔ اس وقت ان کی اولاد جوان اور توانا ہو چکی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ماں باپ کو اولاد کے سہارے کی اسی طرح ضرورت ہوتی ہے جیسے انھوں نے بچپن میں بچوں کو دل و جان سے دیکھ بھال کی تھی۔ ماں باپ کی خدمت کو تمام مذاہب میں فوقیت حاصل ہے۔ اسلام میں بھی ماں باپ کی خدمت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ماں اولاد کے لیے سب سے زیادہ دکھ اٹھاتی ہے۔ وہ اپنا سکھ نچھاور کر دیتی ہے۔ اسی لیے ماں کا رتبہ انتہائی بلند کر دیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔” یعنی جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کرے گا، اس کی اطاعت اور خدمت کرے گا، اسے دنیا و آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل ہوگا۔
باپ کا مقام بھی بڑا اعلیٰ و ارفع ہے۔ باپ بچوں کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ سردی، گرمی، دھوپ اور بارش جیسے موسمی حالات میں بھی وہ بچوں کی خاطر محنت مزدوری کرتا ہے تاکہ انھیں کوئی تکلیف نہ ہو۔ باپ کی اسی خدمت کے عوض اللہ نے اولاد کو باپ کی خدمت و اطاعت کا حکم دیا اور یہاں تک فرمایا کہ “رب کی رضا باپ کی رضا میں اور رب کی ناخوشی باپ کی ناخوشی میں ہے۔”
والدین کا مزاج بڑھاپے میں بڑا نازک ہو جاتا ہے۔ مرضی کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو انھیں بڑا دکھ ہوتا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: “ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو۔” قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہوا: “اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔” ہمیں چاہیے کہ والدین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں تاکہ ان کی دعاؤں سے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔
(ب) علامہ اقبالؒ
علامہ اقبالؒ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان ہیں۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں مکمل کی۔ پانچ سال کی عمر میں مشن ہائی اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور میٹرک تک اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ آپ نے مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ نے بی اے کا امتحان 1897ء میں اور 1899ء میں فلسفہ میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ پنجاب بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ مولوی میر حسن سے آپ نے اسلامیات اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبالؒ نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹر کہلائے۔
آپ نے الہ آباد کے مقام پر 1930ء میں ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے مسلمانوں کو ہندوؤں سے ہر لحاظ سے الگ قرار دیا۔ آپ ہمارے قومی شاعر ہیں۔ آپ نے غفلت کی نیند سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ آپ نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے۔ آپ نے نوجوانوں کے لیے بے شمار نظمیں بھی لکھی ہیں۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں فلسفۂ خودی دیا۔ اقبال کے فلسفۂ خودی سے تکبر و غرور یا گھمنڈ مراد نہیں بلکہ اپنی ذات اور اپنے نفس کی پہچان ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ خودی کا نام ہے ایک ایسی کیفیت جس کے نتیجے میں انسان میں ضبط نفس، اطاعت الٰہی اور نیابت الٰہی جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے
اقبالؒ سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو حضور ﷺ کی تعلیمات کا پابند ہو جانے کا درس دیا۔
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
آپ کی شاعری کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں: (1) بانگ درا (2) بال جبریل (3) اسرار خودی (4) جاوید نامہ (5) ضرب کلیم (6) ارمغان حجاز۔
علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ آپ کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی سیڑھیوں کے پاس واقع ہے۔
★ ختم شد — ماڈل پیپر 6 (سیکنڈ ہاف) ★
