Education

Grade 8 Urdu Model Paper 4 – PECTAA Board 2027 | Chapters 13–20

Grade 8 Urdu PECTAA Model Paper 4

Grade 8 Urdu Model Paper 4 – PECTAA Board 2027 is designed to help students prepare for their annual examinations according to the new syllabus issued by PECTAA Punjab. This paper is part of the Grade 8 Urdu Chapter-Wise Test Series and includes a Full Book Urdu Test along with focused preparation for Chapters 13 to 20. Students can use these practice tests to revise important topics, strengthen their Urdu language skills, assess their understanding of the textbook, and improve their examination performance. This model paper is suitable for Grade 8 students and teachers preparing for the PECTAA Board 2027 Model Papers under the new Punjab syllabus.

786Times 786Times 786Times 786Times 786Times
چیپٹر وائز
MODEL PAPER URDU GRADE-8EXAMINATION 2025-26, PART – A (OBJECTIVE TYPE)Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks
ماڈل پیپر 4 نمبر

Student Name
(In Capital Letters)
Roll Number
(In Figures)
––
Signature of Dy. Superintendent (CNIC) —————–
For Official Use Only
Total Marks
MCQs
Signature of
Assistant
Signature of
Head Examiner
سبق 13 تا 20 (قدرتی ماحول تا بچے کی دعا)سلیبس
مثال:چیچڑی کی وجہ سے پھیلنے والی بیماری: (a) پولیو(b) خسرہ(c) ڈینگیd کانگو
کل وقت: 1 گھنٹہ
(حصہ اوّل) کثیر الانتخابی سوالات
کل نمبر: 40

خصوصی ہدایات: اس پرچے میں چالیس (40) کثیر الانتخابی سوالات دیے گئے ہیں۔ ہر سوال ایک (01) نمبر پر مشتمل ہے۔

  1. “کتاب پڑھی جارہی ہے” فعل معروف کے مطابق جملہ ہے:

    • کتاب پڑھی گئی۔
    • کتاب پڑھی جائے گی۔
    • سلمیٰ کتاب پڑھ رہی ہے۔
    • کتاب پڑھی جارہی ہوگی۔
  2. کسی کے ساتھ تعلق تو بہت گہرا ہو لیکن وہ رابطہ رکھے بغیر اپنے کاموں میں مصروف ہو اور لمبے عرصے کے بعد ملنے آئے تو ایسے شخص کے لیے کہا جاتا ہے:

    • چراغ سحری ہونا
    • عملی جامہ پہنانا
    • عید کا چاند ہونا
    • حق ادا کرنا
  3. کہاوت “ٹیڑھی کھیر” کا درست استعمال ہے:

    • ٹیڑھی کھیر کھانا مشکل کام ہے۔
    • ٹیڑھی کھیر کا ذائقہ لاجواب تھا۔
    • تیرا کی سیکھنا اسلم کے لیے ٹیڑھی کھیر بن گیا۔
    • ٹیڑھی کھیر سفید ہوتی ہے۔
  4. الفاظ کی ردیف وار ترتیب ہے:

    • سلامت، یاس، تختی، بات
    • تختی، یاس، بات، سلامت
    • بات، سلامت، یاس، تختی
    • یاس، تختی، سلامت، بات
  5. “پہلے اپنوں کا خیال کیا جائے بعد میں دوسروں کا” اس کے لیے درست ضرب المثل ہے:

    • اول خویش، بعد درویش
    • حرکت میں برکت ہے
    • زبانِ خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
    • ضرورت ایجاد کی ماں ہے
  6. “ڈرامہ دیکھا جائے گا” فعل معروف کے مطابق جملہ ہے:

    • ڈرامہ دیکھا جارہا ہے۔
    • ڈرامہ دیکھا گیا۔
    • میں ڈرامہ دیکھوں گا۔
    • ڈرامہ دیکھا جاتا ہے۔
  7. “کتاب چھپ گئی ہے” فعل معروف کے مطابق یہ جملہ ہے:

    • کتاب چھپ گئی تھی۔
    • کتاب چھپ رہی ہے۔
    • کتاب چھپ رہی ہوگی۔
    • ناشر نے کتاب چھاپ دی ہے۔
  8. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ سابقہ “بے” لگے گا؟

    • نور، ایمان، ضمیر
    • مراد، ہنر، نیک
    • ماہر، نیک، خط
    • معلوم، ضمیر، ہوا
  9. “بد” سابقہ کی مدد سے بننے والے درست الفاظ ہیں:

    • اخلاق، لباس، احترام
    • داغ، کام، گمان
    • احسان، صورت، دولت
    • اخلاق، صورت، حواس
  10. صبر کرنے والا کہلاتا ہے:

    • صاحب
    • صابر
    • صادق
    • صارف
  11. “چائے بنائی گئی” فعل معروف کے مطابق یہ جملہ ہے:

    • بشریٰ نے چائے بنائی۔
    • چائے بن جائے گی۔
    • چائے بن گئی۔
    • چائے بن گئی ہے۔
  12. “باز” لاحقہ کی مدد سے بننے والے درست الفاظ ہیں:

    • وقت، ہوا
    • خلا، فضا
    • دغا، چال
    • باغ، صدا
  13. “گپ شپ” میں “شپ” ہے:

    • اسم
    • صفت
    • فعل
    • مہمل
  14. ضمانت دینے والا کہلاتا ہے:

    • ضامن
    • ضعیف
    • ضخیم
    • ضدی
  15. الفاظ کی ردیف وار ترتیب ہے:

    • بہن، ترتیب، کافر، نیک
    • نیک، کافر، بہن، ترتیب
    • کافر، نیک، بہن، ترتیب
    • ترتیب، بہن، نیک، کافر
  16. ریحانہ کا والد دانتوں کا بہت اچھا ڈاکٹر ہے لیکن وہ کسی اور ڈاکٹر سے دانت ٹھیک کرانے چلی گئی، سچ کہتے ہیں:

    • گھر کی کھیتی
    • گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے
    • نہ گھر کا نہ گھاٹ کا
    • گھر کی مرغی دال برابر
  17. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ لاحقہ “خانہ” لگے گا؟

    • دوا، کباڑ، نگار
    • خوش، نفرت، ہمت
    • کباڑ، مزاج، صحت
    • نگار، جانور، پیار
  18. “شریکِ حیات” کا معنی ہے:

    • ماں
    • بیوی
    • بہن
    • بیٹی
  19. مختلف معانی رکھنے والے ہم شکل الفاظ کا جملہ ہے:

    • جہاں کسی کی کھٹ پٹ ہوئی وہاں ہم کھٹ سے پہنچ گئے۔
    • ٹھنڈی آئس کریم کھانے سے دانت ٹھنڈے ہو جاتے ہیں۔
    • یہ آم مجھے کھٹا سا محسوس ہو رہا ہے۔
    • گاڑی چھک چھک کرتی چلی آ رہی ہے۔
  20. “صفات” کا مترادف ہے:

    • استعداد
    • خوش دلی
    • خوبیاں
    • خامیاں
  21. “روزمرہ” کے درست استعمال کا جملہ ہے:

    • کوئل اور زینیہ کی ذہانت میں انیس بیس کا فرق ہے۔
    • کوئل اور زینیہ کی ذہانت میں اٹھارہ بیس کا فرق ہے۔
    • کوئل اور زینیہ کی ذہانت میں اٹھارہ انیس کا فرق ہے۔
    • کوئل اور زینیہ کی ذہانت میں سترہ انیس کا فرق ہے۔
  22. اس نے روتے ہوئے باپ کے سامنے اپنی چھوٹی سی غلطی کا اقرار کر لیا تو باپ نے پیار سے سمجھایا، سچ کہتے ہیں:

    • چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے
    • بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی
    • سانچ کو آنچ نہیں
    • جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے
  23. محاورے کے لحاظ سے درست جواب کی نشان دہی کریں: اس کی دلیلوں کے سامنے تمہاری دال ………… نظر نہیں آتی۔

    • پکتی
    • گلتی
    • بنتی
    • بچتی
  24. “واہ واہ” گرامر کی رُو سے ہے:

    • حروفِ تاسف
    • حروفِ تحسین
    • حروفِ ایجاب
    • حروفِ عطف
  25. “عارف نے نئے کپڑے پہنے” اس جملے میں “عارف” گرامر کی رُو سے کیا ہے؟

    • اسم
    • فعل
    • حرف
    • کلمہ
  26. “وقت کی پابندی کا مطلب ہے کسی کام کا مقررہ وقت پر انجام دینا۔ وقت کی پابندی انسان کی وہ خوبی ہے جو اسے تمام کام وقت پر کرنے کے قابل بناتی ہے۔” عبارت کا تعلق ہے:

    • کہانی سے
    • ڈرامے سے
    • مضمون سے
    • درخواست سے
  27. دی گئی تصویر کا تعلق ہے:

    • خبر سے
    • اشتہار سے
    • ادارےیہ سے
    • فیچر سے
  28. “کسی کو بُرا مت کہو” اس جملے میں حرف کی نشان دہی کریں۔

    • کسی
    • کو
    • بُرا
    • مت کہو
  29. ظلم سہنے والا کہلاتا ہے:

    • مظلوم
    • معصوم
    • مغموم
    • محکوم
  30. “بہت خوب ایسی کتاب تو واقعی لاجواب ہے۔” اس جملے میں عنصر موجود ہے:

    • ہنسی کا
    • تحسین کا
    • طنز کا
    • غصے کا
786Times 786Times 786Times 786Times 786Times

☆ درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 31 تا 35 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔

اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے بلکہ ان تمام نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرنے کے لیے عقل و شعور جیسی انمول نعمت بھی عطا کی ہے۔ پھر اس انسان کو ان نعمتوں سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کے قابل بنانے کے لیے مختلف اقسام کے موسم اور زمین کو مختلف اقسام میں بانٹ دیا ہے۔ پاکستان کو جغرافیائی اعتبار سے دیکھا جائے تو کہیں بلند و بالا پہاڑ ہیں اور کہیں میدان، کہیں زرخیز اور بنجر زمین ہیں تو کہیں پتھریلے علاقے اور کہیں دریا و سمندر ہیں تو کہیں صحرا اور جنگلات موجود ہیں۔ تمام پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار اور ساخت کا انحصار زمین کی ساخت اور موسموں کے تغیر و تبدل پر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو چار موسموں سے نوازا ہے۔
  1. جغرافیائی اعتبار سے پاکستان میں __________ موجود ہیں۔

    • بلند و بالا پہاڑ اور میدان
    • زرخیز اور بنجر زمین
    • پتھریلے علاقے
    • دریا اور سمندر، مذکورہ تمام
  2. تمام پھلوں اور سبزیوں کی پیداوار اور ساخت کا انحصار __________ پر ہے۔

    • موسموں
    • زمین کی ساخت اور موسموں کے تغیر و تبدل
    • آب و ہوا
    • جغرافیہ
  3. اللہ تعالیٰ نے انسان کو __________ نوازا ہے۔

    • نعمتوں
    • لاتعداد نعمتوں
    • رحمتوں
    • لاتعداد رحمتوں
  4. عقل و شعور جیسی انمول نعمت بھی عطا کی ہے:

    • نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے لیے
    • احسانات کا شکر ادا کرنے کے لیے
    • a اور b دونوں
    • کوئی نہیں
  5. اللہ تعالیٰ نے زمین کو بانٹ دیا:

    • دو اقسام میں
    • تین اقسام میں
    • چار اقسام میں
    • مختلف اقسام میں

☆ درج ذیل نظم پارے کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 36 تا 40 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔

اٹھو قدم قدم سے ملاتے چلے چلومنزل کی دھن میں جھومتے گاتے چلے چلو سب مل کے ایک راہ بناتے چلے چلوہر مرحلے کو سہل بناتے چلے چلو بن کر گھٹا فضاؤں پہ چھاتے چلے چلوتفریقِ رنگ و نسل مٹاتے چلے چلو ہر ہر قدم پہ دھوم مچاتے چلے چلوانسانیت کی شان دکھاتے چلے چلو
  1. مصرع مکمل کریں: “انسانیت کی شان __________”۔

    • چھاتے چلے چلو
    • مچاتے چلے چلو
    • مٹاتے چلے چلو
    • دکھاتے چلے چلو
  2. شاعر نے مٹانے کا کہا ہے:

    • تفریقِ رنگ
    • تفریقِ نسل
    • a اور b دونوں
    • کوئی نہیں
  3. اٹھو قدم قدم سے __________ چلے چلو۔

    • ملاتے
    • چلاتے
    • ہلاتے
    • گراتے
  4. کس کی دھن میں جھومتے گاتے چلے چلو؟

    • سفر کی
    • منزل کی
    • راہ کی
    • محنت کی
  5. سب مل کر ایک __________ بناتے چلے چلو۔

    • سفر
    • منزل
    • راہ
    • فضا
786Times 786Times 786Times 786Times 786Times
چیپٹر وائز
MODEL PAPER URDU GRADE-8EXAMINATION 2025-26, PART – B (SUBJECTIVE TYPE)Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks
ماڈل پیپر 4 نمبر

Student Name
(In Capital Letters)
Roll Number
(In Figures)
––
Signature of Dy. Superintendent (CNIC) ………………………
Q.
No.
MarksSignature
of
Sub-Examiner
Signature of
AssistantHead
Examiner
41
42
43
44
45
TotalFor official use only
کل وقت: 2 گھنٹے
(حصہ دوم) مختصر سوالات
کل نمبر: 60
سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔(20 نمبر)
  • جملوں میں استعمال ہونے والے مترادف الفاظ (مثال: خوشی/مسرت) کی مدد سے واضح کریں؟
  • بدعنوانی کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟
  • فعل کی تعریف ایک جملے میں بیان کریں؟
  • زبر، زیر اور پیش کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟
  • فاعل کسے کہتے ہیں؟
  • کھلی فضا میں ورزش کے دو اہم فائدے بتائیں؟
  • دُور کے سے سے کیا مراد ہے؟
  • اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس انمول نعمت سے نوازا؟
  • حکیم محمد سعید کے مشہور ہونے کی ایک وجہ بیان کریں۔
  • درسِ عمل کے کیا معنی ہیں؟
  • اندھیرا دور ہونے سے کیا مفہوم نکلتا ہے؟
  • بدعنوانی کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟
  • اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا درجہ عطا کیا ہے؟
سوال 42: درج ذیل جملوں کو توجہ سے پڑھیں اور کوئی سے پانچ غلط جملوں کو درست کر کے لکھیں۔(10 نمبر)
  • دراصل میں وہ سچ ہی کہ رہا تھا۔
  • آج بدھ کا دن ہے۔
  • آب زمزم بہت با برکت ہے۔
  • ماہ رمضان کا مہینہ آنے والا ہے۔
  • کوہ ہمالیہ کا پہاڑ بہت اونچا ہے۔
  • براہِ مہربانی کر کے چلے جائیں۔
  • بوڑھی عورت بہت کمزور ہے۔
(حصہ سوم) انشائیہ سوالات
سوال 43: کسی ایک سبق کا خلاصہ بھی تحریر کریں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔(10 نمبر)
(الف) کرپشن ایک سماجی برائی(ب) حکیم محمد سعید
سوال 44: اپنے روٹھے ہوئے دوست کو منانے کی کوشش کرنے کے لیے خط لکھیں۔   یا   “ناانفاقی کا انجام” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔(10 نمبر)
سوال 45: کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔(10 نمبر)
(الف) قائداعظم محمد علی جناحؒ(ب) ورزش کے فائدے
ماڈل پیپر 4 (چیپٹر وائز)
(حصہ اوّل) کثیر الانتخابی سوالات
(حصہ دوم) مختصر سوالات

سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔

i. جملوں میں استعمال ہونے والے مترادف الفاظ (مثال: خوشی/مسرت) کی مدد سے واضح کریں؟

جواب: مثال: “اس کی کامیابی پر مجھے بہت خوشی ہوئی، اور اس کی مسرت نے میرے دل کو بھی شاد کر دیا۔” اس طرح تکرار سے بچ کر بات کو مؤثر بنایا گیا ہے۔

ii. بدعنوانی کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟

جواب: بدعنوانی کرنے والوں کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔

iii. فعل کی تعریف ایک جملے میں بیان کریں؟

جواب: فعل وہ لفظ ہے جو کسی جملے میں کام یا عمل کے ہونے کو ظاہر کرتا ہے۔

iv. زبر، زیر اور پیش کو عربی میں کیا کہتے ہیں؟

جواب: زبر، زیر اور پیش کو عربی میں حرکات کہتے ہیں اور ان کے انفرادی نام یہ ہیں: زبر کو عربی میں فتحہ (فتحۃ) کہتے ہیں۔ زیر کو عربی میں کسرہ (کسرۃ) کہتے ہیں۔ پیش کو عربی میں ضمہ (ضمۃ) کہتے ہیں۔

v. فاعل کسے کہتے ہیں؟

جواب: فاعل وہ اسم یا ضمیر ہوتا ہے جو کسی جملے میں کام کرنے والے شخص، چیز یا جگہ کا نام ہوتا ہے۔

vi. کھلی فضا میں ورزش کے دو اہم فائدے بتائیں؟

جواب: یہ ہڈیوں اور پٹھوں کو مضبوط کرتی ہے اور بیماریوں کے خلاف مدافعت بڑھاتی ہے۔

vii. دُور کے سے سے کیا مراد ہے؟

جواب: شاعر کی مراد یہ ہے کہ چاندنی رات میں دریا یا سمندر کے کنارے کھڑے ہو کر دور دور تک نظارہ دیکھیں۔

viii. اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس انمول نعمت سے نوازا؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ انسان کو لاتعداد نعمتوں سے نوازا ہے بلکہ ان تمام نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرنے کے لیے عقل و شعور جیسی انمول نعمت بھی عطا کی ہے۔

ix. حکیم محمد سعید کے مشہور ہونے کی ایک وجہ بیان کریں۔

جواب: حکیم محمد سعید کے مشہور ہونے کی ایک وجہ ان کا “ہمدرد نونہال” رسالہ ہے۔

x. درسِ عمل کے کیا معنی ہیں؟

جواب: درسِ عمل سے مراد عمل کرنے کا سبق ہے۔

xi. اندھیرا دور ہونے سے کیا مفہوم نکلتا ہے؟

جواب: اندھیرا دور ہونے سے مراد برائیوں کا دور ہونا ہے۔

xii. بدعنوانی کرنے والوں کے ساتھ کیسا سلوک کرنا چاہیے؟

جواب: بدعنوانی کرنے والے کو عبرت ناک سزا دینی چاہیے۔

xiii. اللہ تعالیٰ نے انسان کو کیا درجہ عطا کیا ہے؟

جواب: اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنا کر زمین پر اُتارا۔

سوال 42: درج ذیل جملوں کو توجہ سے پڑھیں اور کوئی سے پانچ غلط جملوں کو درست کر کے لکھیں۔

  • دراصل وہ سچ ہی کہہ رہا تھا۔
  • آج بدھ ہے۔
  • آب زمزم بہت بابرکت ہے۔
  • ماہ رمضان آنے والا ہے۔
  • کوہ ہمالیہ بہت اونچا ہے۔
  • براہِ مہربانی چلے جائیں۔
  • بوڑھی عورت بہت کمزور ہے۔
(حصہ سوم) انشائیہ سوالات

سوال 43: کسی ایک سبق کا خلاصہ بھی تحریر کریں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔

(الف) کرپشن ایک سماجی برائی

جواب: کسی بھی معاشرے کے لیے کرپشن یا بدعنوانی زہرِ قاتل سے کم نہیں۔ بدعنوانی کرنے والے لوگ دوسروں کا حق مارتے ہیں، جس سے معاشرے میں مایوسی، غصہ، انتقام، نفاق اور نفرت جیسے جذبات فروغ پاتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ معاشرہ امن اور ترقی کے بجائے افراتفری، لاقانونیت اور زوال کی جانب سفر کرنے لگتا ہے۔ رشوت، سفارش، ملاوٹ، ناپ تول میں کمی اور اقربا پروری وغیرہ سب کرپشن ہی کی مختلف شکلیں ہیں۔

کرپشن کا لفظ ہر زبان میں معاشرے کے گھناؤنے اور منفی کاموں کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر کسی قوم میں کرپشن سرایت کر جائے تو وہ اپنی شناخت اور ساخت سمیت ہر مقام کھو دیتی ہے۔ کرپشن اعلیٰ اقدار کی دشمن ہے جس سے معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے متعدد بار اپنی رپورٹوں میں کہا ہے کہ جنوبی ایشیا کا خطہ بدعنوانی کا شکار ہے۔ مالیاتی ہیر پھیر، غبن، دھوکا، فریب، جھوٹ اور بے قاعدگی سے مال بنانا کرپشن کی چند معروف صورتیں ہیں۔

ان کے علاوہ انسان کے اندر دولت کی ہوس اور غصب کا رجحان دراصل ایک فساد ہے جو صرف حرام خوری ہی نہیں بلکہ دیگر برائیوں کا سبب بھی بنتا ہے۔ اسلام بھی کہتا ہے کہ اصلاح کی کوششوں کے بعد فساد نہ پھیلاؤ، یعنی جو اچھائی اور اصلاح پیدا ہو چکی ہے اسے پھر خرابی نہ کرو۔ کرپشن کے خاتمے کے لیے ریاست کو چاہیے کہ شہریوں کو غلط راستے پر جانے سے بچانے کے لیے ان کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے اقدامات کرے۔ اگر ایسا نہ ہوگا تو پھر لوگ کرپشن کرتے رہیں گے۔ شہریوں کو تعلیم و تربیت کے ذریعے بھی کرپشن سے دور کیا جا سکتا ہے۔ دینی تعلیمات سے روشناس کروا کر انہیں کرپشن سے دور رکھا جا سکتا ہے۔

(ب) حکیم محمد سعید کا خلاصہ

جواب: حکیم محمد سعید ایک مشہور شخصیت تھے۔ وہ 9 جنوری 1920ء کو ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد نے ایک دواخانہ ہمدرد کے نام سے قائم کر رکھا تھا۔ آپ کی والدہ دین دار اور اصول پسند خاتون تھیں۔ آپ بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے۔ جب آپ ڈھائی برس کے تھے تو آپ کے والد انتقال کر گئے۔ ان کی عمر محض 39 برس تھی۔ والد کے بعد ماں اور بڑے بھائی نے پرورش کی۔ ابتدائی دینی تعلیم کے بعد باقاعدہ تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپ نے عربی اور فارسی زبانوں میں مہارت حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں طب کی تعلیم حاصل کرنے لگ گئے اور جلد ہی بلند پایہ حکیم بن گئے۔

پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو آپ سب کچھ چھوڑ کر کراچی آ گئے۔ کراچی میں بڑی مشکل سے گزارا ہونے لگا۔ آپ نے پھر اپنا مطب قائم کر لیا۔ جلد ہی حالات بہتر ہونے لگے۔ آپ نے پہلے ہمدرد دواخانہ اور پھر سکول قائم کیا۔ طب کے فروغ کے لیے طبیہ کالج قائم کیا جس کا افتتاح محترمہ فاطمہ جناح نے کیا۔ اس سے پہلے آپ ہمدرد فاؤنڈیشن بھی قائم کر چکے تھے۔ آپ نے اپنے ادارے سے ہونے والی آمدنی خود پر خرچ کرنے کی بجائے ایک ٹرسٹ کے طور پر خرچ کی۔ آپ بچوں کو اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حامل دیکھنا چاہتے تھے۔ اسی لیے آپ نے رسالہ ہمدرد نونہال شائع کیا۔ اس کے علاوہ متعدد سکول قائم کیے جہاں معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ طب کے شعبے میں 200 سے زائد کتب تحریر کیں۔ اس کے علاوہ مذہب، معاشرتی علوم اور سفرناموں پر بھی تحریریں لکھیں۔

آپ سندھ کے گورنر بھی رہے مگر اس دوران نہ تو کبھی تنخواہ لی اور نہ ہی کبھی سرکاری گاڑی استعمال کی۔ ان کی خدمات کے صلے میں حکومتِ پاکستان نے انہیں ستارۂ امتیاز سے بھی نوازا۔ 1998ء میں آپ اپنے مطب سے جا رہے تھے تو چند نامعلوم افراد نے گولیاں مار کر آپ کو شہید کر دیا۔ وہ دنیا سے تو رخصت ہو گئے مگر ان کے منصوبے آج بھی دکھی لوگوں کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔ ہمدرد لیبارٹریز پاکستان کے بانی حکیم محمد سعید شہید نے اردو میں صحت و صفائی پر ایک رسالہ ماہنامہ “ہمدردِ صحت” جب کہ اسلام اور طب پر انگریزی میں رسالے “ہمدرد اسلامکس” اور “ہمدرد میڈیکس” بھی جاری کیے۔ اس کے علاوہ انہوں نے ہفتہ وار رسالہ “ہمدرد خبرنامہ” کے نام سے بھی جاری کیا۔ اردو زبان میں بچوں کے لیے پہلی بار سفرنامے اور ڈائری شائع کی۔ آپ کا ہمدرد نونہال شائع کرنے والا ادارہ آپ کی وفات کے بعد بھی شائع ہوتا رہا ہے۔

آپ ان منصوبوں کے علاوہ انسانی خدمت میں بھی شب و روز مصروف رہے۔ آپ کی فاؤنڈیشن آج تک زلزلہ یا سیلاب زدگان کی مدد اور دیگر فلاحی کاموں میں پیش پیش نظر آتی ہے۔ آپ کی وفات کے بعد سے اب تک فاؤنڈیشن ہر سال ثانوی اور اعلیٰ ثانوی سطح کے ہزاروں ہونہار اور ضرورت مند طلبہ کو حکیم محمد سعید یادگاری وظائف سے نواز رہی ہے۔

سوال 44: اپنے روٹھے ہوئے دوست کو منانے کی کوشش کرنے کے لیے خط لکھیں۔

(روٹھے ہوئے دوست کو منانے کی کوشش کرنے کے لیے)

ساہیوال
تاریخ: …………..

پیارے دوست جمیل!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ!

میں پہلے خیریت سے ہوں اور آپ کی خیریت کا خواہاں ہوں، لیکن آپ نے ایک بھی جوابی خط نہیں لکھا۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ آپ کی تقریب میں میرے نہ آنے کی وجہ سے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔ میں نے وعدہ کیا تھا مگر نہ آ سکا اور نہ ہی اطلاع دے سکا۔ آپ کی ناراضی بجا ہے لیکن میرا عذر بھی معقول ہے۔ ہوا یوں کہ جس دن آپ کے ہاں تقریب تھی اسی دن میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ موٹر سائیکل پر بازار گیا تاکہ چند کتابیں خریدوں۔ واپسی پر ہم دونوں بھائی حادثے کا شکار ہو گئے۔ میں اور بھائی جان بُری طرح زخمی ہو گئے۔ آج زخم کچھ ٹھیک ہوئے ہیں۔ ابھی تک ڈاکٹر نے آرام کا مشورہ دیا ہوا ہے۔ میں اپنے حادثے کے بارے میں بتا کر آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن آپ کی ناراضی کی وجہ سے بتانا پڑا۔

امید ہے اس وضاحت سے آپ کی ناراضی دور ہو جائے گی اور آپ میری خبر لینے بھی آئیں گے۔ میں نے آپ کا تحفہ بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ گھر والوں کی خدمت میں سلام۔

والسلام
آپ کا دوست
ا۔ ب۔ ج

“ناانفاقی کا انجام” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔

جواب: کسی جنگل میں دو بیل رہا کرتے تھے جو بہت طاقتور اور بہادر تھے۔ ہمیشہ مل جل کر رہتے اور ہر خطرے کا مل کر مقابلہ کیا کرتے تھے۔ ایک دن ایک شیر نے ان پر حملہ کر دیا۔ دونوں نے مل کر اس کا مقابلہ کیا اور مار بھگایا۔ ایک دن دونوں باتیں کر رہے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں سینگوں جیسے اچھے ہتھیار دیے اور ہم نے شیر کو مار بھگایا۔ باتیں کرتے کرتے ایک بیل بولا: “میری طاقت نے شیر کو بھگایا ورنہ تم تو صرف اپنا بچاؤ کر رہے تھے۔” دوسرا چیخ کر بولا: “واہ! اگر میں پھرتی نہ دکھاتا اور سینگوں سے حملہ نہ کرتا تو شیر نے تمہیں مار ہی دیا تھا۔”

دونوں میں تُو تُو مَیں مَیں ہونے لگی اور تکرار اتنی بڑھی کہ دونوں ایک دوسرے سے بیزار ہو کر الگ ہو گئے۔ ایک مشرق کی جانب چلا گیا اور ایک مغرب کی جانب۔ جوں ہی شیر کو بیلوں کی ناانفاقی کی اطلاع ملی تو بہت خوش ہوا اور ان کی تاک میں بیٹھ گیا۔ جوں ہی ایک بیل آیا تو شیر نے چھلانگ لگائی اور ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کر دیا۔ جی بھر کر گوشت کھایا اور سو گیا۔ اگلے دن دوسرے بیل کی تلاش میں نکلا اور جلد ہی اسے ڈھونڈ کر اس پر جست لگائی اور ایک ہی وار میں اس کی کمر توڑ دی۔ بیل نے بہت مزاحمت کی لیکن شیر کے سامنے کوئی پیش نہ گئی۔ شیر نے مزے سے اس کا گوشت کھایا اور ڈکار لیتا ہوا اپنی کچھار کی جانب چل دیا۔

اخلاقی سبق: ناانفاقی کا انجام بُرا ہوتا ہے۔

سوال 45: کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔

(الف) قائداعظم محمد علی جناحؒ

جواب: قائداعظمؒ 25 دسمبر 1876ء کو کراچی میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام جناح پونجا تھا جو تاجر تھے۔ آپ کا اصل نام محمد علی جناح تھا۔ آپ بچپن ہی سے بہت ذہین تھے۔ آپ نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی ہی میں حاصل کی۔ آپ نے سولہ سال کی عمر میں مشن ہائی سکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے جہاں آپ نے بیرسٹری کے امتحان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ آپ ہندوستان واپس آ کر وکالت کرنے لگے۔

اس دوران آپ کے والد کے کاروباری حالات خراب ہو گئے جس کی وجہ سے آپ کراچی سے بمبئی روانہ ہو گئے۔ کچھ عرصے میں آپ ایک کامیاب وکیل مشہور ہو گئے اور آپ کی مالی حالت اچھی ہونے لگی۔ اسی دوران آپ نے وکالت کے ساتھ سیاست میں بھی حصہ لینا شروع کر دیا۔ آپ 1906ء میں ہندوؤں اور مسلمانوں کی مشترکہ جماعت کانگرس میں شامل ہو گئے۔ 1913ء میں قائداعظمؒ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کر لی اور تمام مسلمانوں کو اس پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ آپ نے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے لیے تحریک شروع کر دی جو جلد ہی تحریکِ آزادی کے نام سے مشہور ہو گئی۔

آپ نے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی سے نجات دلانے کے لیے دن رات کام کیا۔ آپ نے انگریزوں اور ہندوؤں کا ہر محاذ پر ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپ کی انتھک کوششوں سے انگریز آپ کا آزاد وطن کا مطالبہ ماننے پر مجبور ہو گئے اور بالآخر 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک آزاد وطن کی حیثیت سے دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ قیامِ پاکستان کے بعد آپ کو پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔ تحریکِ آزادی میں کام کی زیادتی کی وجہ سے آپ ٹی بی کی بیماری کا شکار ہو گئے۔ ڈاکٹروں نے آپ کو آرام کے لیے کہا لیکن آپ نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے اپنی بیماری کی بھی پروا نہیں کی۔ آپ 11 ستمبر 1948ء کو وفات پا گئے۔ (اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّـآ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ) آپ کا مزار کراچی میں واقع ہے۔

ملّت کا پاسباں ہے محمد علی جناحؒ
ملّت ہے جسم اور جاں ہے محمد علی جناحؒ

(ب) ورزش کے فائدے

جواب: صحت مند انسان صحت مند معاشرے کی علامت ہوتا ہے۔ جس طرح ایک مشین کا دارومدار اس کی مناسب صفائی پر ہے اسی طرح ایک انسان کی صحت کا دارومدار ورزش پر ہے۔ جس طرح مشین کو چلنے کے لیے تیل اور گریس کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کی وجہ سے اس کے پرزے ٹھیک کام کرتے ہیں بالکل اسی طرح انسان کے اعضا کی خوراک ورزش ہے۔

ورزش کرنے کے کئی مختلف طریقے ہیں، مثال کے طور پر سویرے سیر کرنا، دوڑ لگانا، کشتی رانی، سائیکلنگ اور گھڑ سواری وغیرہ۔ ورزش کے لیے صبح اور شام کا وقت نہایت مناسب ہے اور تازہ ہوا میں کی جائے تو بہتر ہے۔ اسی طرح ورزش کے لیے میدان، پارک اور گھاس ہو تو اور بھی مناسب ہے۔ سردی کے موسم میں بند کمرے سے نکل کر کھلی ہوا میں جانا چاہیے۔ کھانا کھانے کے فوراً بعد ورزش نہیں کرنی چاہیے اور ورزش کے فوراً بعد نہانا بھی نہیں چاہیے۔ ورزش میں باقاعدگی ہونی چاہیے۔ کبھی کبھی ورزش کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔ ورزش نہ کرنے سے کاہلی اور سستی آ جاتی ہے۔

ورزش کرنے سے جسم مضبوط ہوتا ہے، جسم کی خوبصورتی بڑھتی ہے، بدن چست رہتا ہے، خوراک جلد ہضم ہوتی ہے، خون کی گردش میں روانی آتی ہے، ذہن تر و تازہ رہتا ہے اور انسان کا سارا دن اچھا گزرتا ہے۔ ورزش نہ کرنے والے افراد کی صحت ہمیشہ خراب رہتی ہے اور بہت جلد وہ لوگ بوڑھے نظر آنے لگتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں سستی رہتی ہے اور عام طور پر ایسے لوگ جسمانی اور ذہنی طور پر کمزور رہتے ہیں۔ اگر ہم روزانہ ورزش کریں تو ہم چاق و چوبند رہ سکتے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!