Education

Grade 8 Urdu PECTAA Model Paper 6 – 2nd Half Book Test (Chapters 11–20)

Urdu 8 Class Model Paper second half book PECTAA

Grade 8 Urdu PECTAA Model Paper 6 is designed to help students prepare for their annual examinations according to the new syllabus issued by PECTAA Punjab. This paper covers the second half of the Grade 8 Urdu book, including Chapters 11 to 20, as part of the chapter-wise test series for PECTAA Board 2027 Model Papers. Students can use this Urdu second-half book test to revise important textbook content, assess their understanding, and strengthen their examination preparation. Teachers can also use this model paper for classroom assessments and revision activities in preparation for the Grade 8 Urdu annual examination 2027.

786Times786Times786Times786Times
6ماڈل پیپر نمبر

MODEL PAPER URDU GRADE-8

EXAMINATION 2025-26, PART – A (OBJECTIVE TYPE)

Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks

سیکنڈ ہاف
Student Name
(In Capital Letters)
Roll Number
(In Figures)
––
For Official Use Only
Total Marks
MCQs
Signature of
Assistant
Signature of
Head Examiner
Signature of Dy. Superintendent (CNIC) —————–
سبق 11 تا 20 (باقی تا نیچے کی دعا)سلیبس
مثال: درج ذیل میں سے درست جواب پر دائرہ لگائیں: (a) پولیو (b) خسرہ (c) ڈینگی (d) کانگو
کل وقت: 1 گھنٹہ(حصہ اوّل) کثیر الانتخابی سوالاتکل نمبر: 40

خصوصی ہدایات: اس پرچے میں چالیس (40) کثیر الانتخابی سوالات دیے گئے ہیں۔ ہر سوال ایک (01) نمبر پر مشتمل ہے۔

1. اکرم ساری جماعت میں اپنا قلم ڈھونڈتا پھر رہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ قلم تو اس کی اپنی جیب میں پڑا ہے۔ وہ کہنے لگا:
(a)بچہ بغل میں ڈھنڈورا شہر میں(b)مان نہ مان میں تیرا مہمان(c)نونقد نہ تیرہ ادھار(d)آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا
2. “انتظام کرنے والا” کہلاتا ہے:
(a)منتظر(b)منتظم(c)منظم(d)منظوم
3. مختلف معانی والے ہم شکل الفاظ کا درست استعمال جملہ ہے:
(a)دو اور دو چار ہوتے ہیں۔(b)وہ در در کی ٹھوکریں کھا رہا ہے۔(c)وہ شخص اب آب ہو گیا۔(d)یہ دو کتابیں مجھے دے دو۔
4. “نعت پڑھی گئی۔” فعل معروف کے مطابق جملہ ہوگا:
(a)نعت پڑھی جا رہی ہے۔(b)نعت پڑھی جاتی ہے۔(c)نعت پڑھی جائے گی۔(d)طلحہ نے نعت پڑھی۔
5. “آصف نہایت غریب تھا لیکن اسے پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ نہایت مشکل حالات میں بھی اس نے پڑھائی جاری رکھی۔ اس کی کوششیں رنگ لائیں اور آج اس نے ایم اے کر لیا ہے۔ آدمی اگر کسی کام کی کوشش کرتا ہے تو مقصد حاصل کر لیتا ہے۔” سچ کہتے ہیں:
(a)ہمت مرداں مدد خدا(b)ڈوبتے کو تنکے کا سہارا(c)اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے(d)پاک رہو بے باک ہو
6. “علی اور حمزہ کی عمر میں ……….. کا فرق ہے۔” اس جملے میں محاورے کے لحاظ سے درست الفاظ لگائیں:
(a)انیس اکیس(b)اٹھارہ بیس(c)انیس بیس(d)اٹھارہ اکیس
7. “ادھار کے زیادہ نفع سے نقد کم قیمت میں مل جانا اچھا ہے۔” اس جملے میں محاورے کے لحاظ سے درست لفظ ہے:
(a)نونقد نہ بارہ ادھار(b)نونقد نہ تیرہ ادھار(c)نونقد نہ چودہ ادھار(d)نونقد نہ پندرہ ادھار
8. “خط پڑھا جاتا ہے۔” یہ جملہ فعل معروف کے مطابق ہوگا:
(a)خط پڑھا جا رہا ہے۔(b)خط پڑھا جا چکا ہے۔(c)خط پڑھا جائے گا۔(d)ہاشم خط پڑھتا ہے۔
9. غیر مسلموں سے حاصل ہونے والا محصول کہلاتا ہے:
(a)زکوٰۃ(b)صدقہ(c)مالیہ(d)جزیہ
10. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ سابقہ “ان” لگ سکتا ہے؟
(a)گنت، پڑھ، عقل، بخت(b)تھک، بخت، جان، سمجھ(c)پڑھ، جان، تھک، گنت(d)سمجھ، جان، درد، حیرت
786Times786Times786Times786Times
11. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ لاحقہ “باز” لگ سکتا ہے؟
(a)وقت، ہوا(b)خلا، فضا(c)دغا، چال(d)باغ، صدا
12. زندگی کی مہارتیں سیکھنے کا بہترین وقت ہے:
(a)بچپن(b)جوانی(c)ادھیڑ عمر(d)بڑھاپا
13. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ سابقہ “ان” آئے گا؟
(a)پڑھ، مول، گنت(b)جان، سمجھ، اصول(c)ایمان، شان، وضع(d)ہوا، نوک، جبر
14. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ لاحقہ “دار” لگے گا؟
(a)کاٹنے، حق، شہرت(b)جان، سمجھ، اصول(c)ایمان، شان، وضع(d)ہوا، نوک، جبر
15. محاورے کے اعتبار سے درست جملہ ہے:
(a)تمھاری ساری باتیں غلط ہیں۔(b)تم فضول باتیں کرتے رہتے ہو۔(c)تم ایسی ہی باتیں کرتے رہتے ہو۔(d)باتیں بنانا تو کوئی تم سے سیکھے۔
16. الفاظ کی ردیف وار درست ترتیب ہے:
(a)خاک، کائنات، تختی، یمن(b)کائنات، خاک، یمن، تختی(c)تختی، یمن، کائنات، خاک(d)خاک، تختی، یمن، کائنات
17. “جو نعمت عام ہو، اس کی قدر نہیں ہوتی۔” ایسی صورت حال کے لیے ضرب المثل بولی جاتی ہے:
(a)چور کی ڈاڑھی میں تنکا(b)اندھیر نگری چوپٹ راج(c)اونٹ کے گلے میں بلی(d)گھر کی مرغی دال برابر
18. “عبادت کرنے والا” کہلاتا ہے:
(a)نیک(b)پرہیزگار(c)عابد(d)معبود
19. مختلف معانی رکھنے والے ہم شکل الفاظ کے درست استعمال والا جملہ ہے:
(a)وہ گرتے گرتے بچا۔(b)وہ کھاتے کھاتے تھک گیا۔(c)وہ بہت کھویا کھویا رہتا ہے۔(d)وہ بے بہا پانی بہا رہا ہے۔
20. “کھانا کھایا جا رہا ہے۔” فعل معروف کے مطابق یہ جملہ ہوگا:
(a)وہ کھانا کھا رہا ہے۔(b)کھانا کھایا جاتا ہے۔(c)کھانا کھایا جائے گا۔(d)کھانا کھایا جا چکا ہے۔
21. “ہمیشہ خادم ہی مخدوم بناتا ہے۔” ایسے موقع پر بولی جانے والی کہاوت ہے:
(a)سونا رکی، ایک لوہار کی(b)سید اور میوہ نہیں(c)شکر خورے کو خدا شکر دیتا ہے(d)زبردست کا ٹھینگا سر پر
22. “پانی پیا گیا۔” معروف جملے کے مطابق یوں ہوگا:
(a)اس نے پانی پیا۔(b)پانی پیا جا رہا ہے۔(c)پانی پیا جائے گا۔(d)پانی پیا جا چکا ہے۔
23. الفاظ کی کس فہرست کے ساتھ “ان” لگے گا؟
(a)جان، آب، روٹی(b)گنت، عہد، در(c)مٹ، دور، علم(d)تھک، مول، پڑھ
24. “سربراہ ادارے نے طلبہ کو تنبیہ کی کہ آئندہ کوئی بچہ پودوں کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔” عبارت کا تعلق ہے:
(a)درخواست(b)حکم نامہ(c)فیصلہ(d)رپورٹ
25. “یہ بات نہایت اہم ہے کہ اگر کوئی انسان اپنی ذاتی صفات کی بنیاد پر زندہ و سلامت رہتا ہے، تو اس کی وجہ اس کے اعمال خیر ہیں۔ خیر ایک چراغ ہے۔” دی گئی عبارت میں اہم مقصد موجود ہے:
(a)اچھے اعمال(b)علم و فضل(c)مال و دولت(d)کاروبار
26. کسی بھی تحریر میں موجود جوش و جذبہ، روانی اور دلچسپ مکالماتی گفتگو کہلائی ہے:
(a)تشریح(b)طرز بیان(c)استعارہ(d)تشبیہ
786Times786Times786Times786Times
27. “دنیا میں آج بھی کئی جگہوں پر اندھیر نگری چوپٹ راج ہے۔” اس فقرے میں محاورہ ہے:
(a)چوپٹ راج اندھیر نگری(b)اندھیر نگری ہے دنیا میں آج بھی(c)اندھیر نگری چوپٹ راج(d)دنیا میں چوپٹ راج ہے
28. “خود جرم کر کے دوسروں کو مورد الزام ٹھہرانا۔” ایسے موقع پر بولی جانے والی کہاوت ہے:
(a)آپ بھلے تو جگ بھلا(b)الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے(c)بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی(d)ایک کریلا دوسرا نیم چڑھا
29. “راہزن” سے مراد ہے:
(a)راہنما(b)راہ گزر(c)سر پرست(d)ڈاکو
30. جو جملہ معنوی لحاظ سے درست ہے:
(a)روشنی چمن چمن کر اندر آ رہی تھی۔(b)اے بی بی امتحان کی فکر ستا رہی تھی۔(c)چوہا بجلی کے کیبل میں گھس کر بل میں گھس گیا۔(d)کھلاڑی دوڑ دوڑ کر ہلکان ہو گئے۔
درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 31 تا 35 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔
پاکستان نے ہاکی کے نامور کھلاڑی پیدا کیے جنھوں نے دنیا بھر میں پاکستان کا نام روشن کیا۔ ان میں سمیع اللہ، کلیم اللہ، حسن سردار، شہناز شیخ، منیر ڈار، عاطف حمیدی، نصیر بندہ، شہباز احمد اور اختر رسول وغیرہ شامل ہیں۔ جس طرح عروج کے ساتھ زوال ہے، اسی طرح ہاکی کے قوانین کی تبدیلیوں اور دوسری وجوہات کی بنا پر پاکستانی ہاکی کے عروج کو بھی وقت کے ساتھ زوال آ گیا۔ ضرورت اب اس بات کی ہے کہ ہاکی کے کھلاڑیوں کی محنت کے ذریعے پاکستان میں ہاکی کے کھیل کو اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلایا جائے۔ حکومت اور عوام بھی ہاکی کی سرپرستی کریں۔ یاد رہے کہ ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے لہٰذا اسے زیادہ اہمیت دی جانی چاہیے۔
31. کھلاڑی ہاکی کے کھیل کو کس طرح اس کا کھویا ہوا مقام واپس دلوائیں؟
(a)کھیل کے ذریعے(b)سفارش کے ذریعے(c)محنت کے ذریعے(d)پیار کے ذریعے
32. پاکستانی ہاکی کے زوال کی وجوہات بنیں:
(a)قوانین کی تبدیلیاں(b)عروج(c)زوال(d)بدقسمتی
33. پاکستان نے نامور کھلاڑی پیدا کیے:
(a)کرکٹ کے(b)ہاکی کے(c)فٹ بال کے(d)ٹینس کے
34. عروج کے ساتھ ہے:
(a)شہرت(b)ترقی(c)ذلت(d)زوال
35. شہناز شیخ ہیں:
(a)فاسٹ بولر(b)تیراک(c)کھلاڑی(d)کوہ پیما
درج ذیل نظم پارے کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 36 تا 40 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔
زندگی ہو مری پروانے کی صورت یا رب!علم کی شمع سے ہو مجھ کو محبت یا رب!
ہو مرا کام غریبوں کی حمایت کرنادردمندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا
میرے اللہ! برائی سے بچانا مجھ کونیک جو راہ ہو، اس رہ پہ چلانا مجھ کو
36. درج بالا اشعار میں اللہ تعالیٰ سے کی گئی:
(A)دعا(B)شکایت(C)سفارش(D)تعریف
37. دردمندوں سے ضعیفوں سے:
(A)حمایت کرنا(B)نفرت کرنا(C)محبت کرنا(D)خدمت کرنا
38. طالب علم نے اپنے لیے محبت مانگی ہے:
(A)وطن کی(B)علم کی(C)دولت کی(D)غریب کی
39. ہو مرا کام غریبوں کی:
(A)حمایت کرنا(B)سفارش کرنا(C)چاہت کرنا(D)خدمت کرنا
40. طالب علم نے اپنی زندگی مانگی ہے:
(A)آزاد(B)شمع کی صورت(C)پروانے کی صورت(D)استاد کی صورت
786Times786Times786Times
6ماڈل پیپر نمبر

MODEL PAPER URDU GRADE-8

EXAMINATION 2025-26, PART – B (SUBJECTIVE TYPE)

Part – A: 40 Marks, Part – B: 60 Marks, Total: 100 Marks

سیکنڈ ہاف
Student Name
(In Capital Letters)
Roll Number
(In Figures)
––
Signature of Dy. Superintendent (CNIC) ………………………
Q.
No.
MarksSignature of
Sub-Examiner
Signature of
AssistantHead Examiner
41
42
43
44
45
TotalFor official use only
کل وقت: 2 گھنٹے(حصہ دوم) مختصر سوالاتکل نمبر: 60
(20 نمبر)سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔
  • i.مشابہ الفاظ کی تعریف اور ایک مثال بیان کریں۔
  • ii.“تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے اس کی درست شکل کیا ہے؟
  • iii.اسما کی تذکیر و تانیث کے حوالے سے “ا”، “ی”، “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کی عام پہچان کیا ہے؟
  • iv.لغت (dictionary) کسے کہتے ہیں اور اس میں الفاظ کو کس ترتیب سے رکھا جاتا ہے؟
  • v.ہاکی کس میدان میں کھیلی جاتی ہے؟
  • vi.موسم بہار میں کون سی نمائش منعقد کی جاتی ہے؟
  • vii.اسلام سے قبل عربوں کے کیا حالات تھے؟
  • viii.مایوسیوں میں امید کے نغمے کس طرح چھیڑے جا سکتے ہیں؟
  • ix.علامہ اقبالؒ کی تین کتابوں کے نام بتائیں۔
  • x.کرپشن کی چند صورتیں بیان کریں۔
  • xi.ایسے ممالک کے نام لکھیں جو سارا سال گرم رہتے ہیں؟
  • xii.کھیل کیوں اہم ہوتے ہیں؟
  • xiii.آپ کو سب سے زیادہ کون سا موسم پسند ہے؟
(10 نمبر)سوال 42: درج ذیل جملوں کو توجہ سے پڑھیں اور کوئی سے پانچ غلط جملوں کو درست کر کے لکھیں۔
i.آج ہم نے میچ کھیلنا ہے۔
ii.اسلم شام کے پانچ بجے اکرم کو ملا۔
iii.تم تو ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتے۔
iv.صاحب کا حکم سر آنکھوں پر۔
v.اگر ممکن ہو تو میرا کام کر دیجیے۔
vi.براہ مہربانی فرما کر خط کا جواب جلدی دینا۔
vii.وہ تو ہمیشہ بے پر کی سنانی ہے۔
(حصہ سوم) انشائیہ سوالات
(10 نمبر)سوال 43: کسی ایک سبق کا خلاصہ لکھیں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔
(الف) کرپشن ایک سماجی برائی      (ب) خواتین کا احترام
(10 نمبر)سوال 44: اپنے دوست کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے خط لکھیں۔
یا
“اتفاق میں برکت” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔
(10 نمبر)سوال 45: کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔
(الف) علامہ اقبالؒ      (ب) والدین کی خدمت
ماڈل پیپر 6 (سیکنڈ ہاف) — جوابات
(حصہ اوّل) کثیر الانتخابی سوالات
(حصہ دوم) مختصر سوالات

سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔

i. مشابہ الفاظ کی تعریف اور ایک مثال بیان کریں۔
جواب: مشابہ الفاظ وہ ہوتے ہیں جن کی آوازیں ایک جیسی ہوں لیکن ان کی املا (Spelling) اور معانی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں۔ مثال: ہال (بڑا کمرہ) اور حال (کیفیت / حالت)۔

ii. “تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے اس کی درست شکل کیا ہے؟
جواب: “تم نے میرے کام میں ٹانگ ڈالی” محاورے کے لحاظ سے غلط ہے، اس کی درست شکل یہ ہے: “تم نے میرے کام میں ٹانگ اڑائی”۔

iii. اسما کی تذکیر و تانیث کے حوالے سے “ا”، “ی”، “ہ” پر ختم ہونے والے الفاظ کی عام پہچان کیا ہے؟
جواب: بعض اوقات جن الفاظ کے آخر میں “ا”، “ی”، “ہ” ہو تو وہ عام طور پر مذکر ہوتے ہیں (جیسے دروازہ، بچہ)۔

iv. لغت (dictionary) کسے کہتے ہیں اور اس میں الفاظ کو کس ترتیب سے رکھا جاتا ہے؟
جواب: لغت وہ کتاب ہے جس میں زبان کے الفاظ کے معانی ایک جگہ جمع ہوتے ہیں۔ اس میں الفاظ کو حروف تہجی کی ترتیب کے لحاظ سے شامل کیا جاتا ہے۔

v. ہاکی کس میدان میں کھیلی جاتی ہے؟
جواب: ہاکی گراؤنڈ اور برف پر کھیلی جاتی ہے۔

vi. موسم بہار میں کون سی نمائش منعقد کی جاتی ہے؟
جواب: موسم بہار میں پھولوں کی نمائش منعقد کی جاتی ہے۔

vii. اسلام سے قبل عربوں کے کیا حالات تھے؟
جواب: اگر ہم آغاز اسلام کے وقت سرزمین حجاز پر عربوں کی حالت زار کا جائزہ لیں تو یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اس دور جہالت میں عورتوں کے کوئی حقوق نہ تھے۔

viii. مایوسیوں میں امید کے نغمے کس طرح چھیڑے جا سکتے ہیں؟
جواب: زندگی کا لطف اٹھانے کی مسلسل کوشش سے مایوسیوں میں امید کے نغمے چھیڑے جا سکتے ہیں۔

ix. علامہ اقبالؒ کی تین کتابوں کے نام بتائیں۔
جواب: علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ کی تین کتابوں کے نام درج ذیل ہیں: (i) ضرب کلیم  (ii) بانگ درا  (iii) ارمغان حجاز۔

x. کرپشن کی چند صورتیں بیان کریں۔
جواب: چھوٹے یا بڑے پیمانے پر مالیاتی ہیرا پھیری، غبن، دھوکا، فریب، جھوٹ، بے قاعدگی سے مال بنانا کرپشن کی چند معروف صورتیں ہیں۔

xi. ایسے ممالک کے نام لکھیں جو سارا سال گرم رہتے ہیں؟
جواب: سعودی عرب، کویت، قطر وغیرہ۔

xii. کھیل کیوں اہم ہوتے ہیں؟
جواب: ہمارا روز مرہ کا مشاہدہ ہے کہ کھیلوں سے صحت بہتر ہوتی ہے۔ اس بات سے سبھی واقف ہیں کہ کھلاڑی عام افراد کی نسبت زیادہ صحت مند، تیز اور چاق و چوبند ہوتے ہیں۔ اس لیے کھیل ہر کسی کے لیے ضروری ہیں۔

xiii. آپ کو سب سے زیادہ کون سا موسم پسند ہے؟
جواب: مجھے سب سے زیادہ بہار کا موسم پسند ہے۔

سوال 42: غلط جملوں کی درستی

درست جملے:

i.آج ہمیں میچ کھیلنا ہے۔
ii.اسلم شام کے پانچ بجے اکرم سے ملا۔
iii.تم تو ناک پر مکھی بھی نہیں بیٹھنے دیتے۔
iv.صاحب کا حکم سر آنکھوں پر۔
v.اگر ممکن ہو تو میرا کام کر دیجیے۔
vi.مہربانی فرما کر خط کا جواب جلد دینا۔
vii.وہ تو ہمیشہ بے پر کی اڑاتی ہے۔
(حصہ سوم) انشائیہ سوالات

سوال 43. کسی ایک سبق کا خلاصہ لکھیں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔

(الف) کرپشن ایک سماجی برائی
نوٹ: اس کے جواب کے لیے چیپٹر وائز سوال 43 کا انشائیہ سوال 43 کا جواب دیکھیے۔

(ب) خواتین کا احترام

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا اور ساتھ ہی مرد و زن کے حقوق و فرائض بھی متعین کیے۔ ظہور اسلام سے پہلے عرب کے معاشرے میں عورتوں کی حالت کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس دور میں عورتوں کو حقوق حاصل نہ تھے۔ بیٹی کی پیدائش پر خوشی کی بجائے سوگ کا سماں ہوتا تھا اور بعض لوگ بیٹی کو زندہ گاڑ دیتے تھے۔ عورت کی عزت نہیں کی جاتی تھی۔

جہالت کے اندھیروں میں نور کی شمع بن کر حضور نبی کریم ﷺ نے عرب کو جھنجھوڑ دیا۔ آپ ﷺ نے عربوں کو عورتوں کے مقام و مرتبہ سے آگاہ کیا۔ آہستہ آہستہ عربوں کا ذہن بدلنے لگا۔ اسلام کا نور ان کو روشن کرنے لگا۔ پیارے آقا کریم ﷺ نے اپنی پیاری بیٹی حضرت فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا سے بے پناہ محبت و شفقت فرمائی۔ ان کے آنے پر کھڑے ہو کر بیٹی کی عزت کو بڑھایا۔ امہات المومنین رضی اللہ عنہن کو جس عزت و تکریم سے نوازا، وہ رہتی دنیا تک نمونہ ہے۔ بیٹی کو خاندان کے لیے عزت اور باعث رحمت قرار دیا اور قیامت کے دن والدین کے لیے باعث شفاعت فرمایا۔ بیٹی کی بہترین پرورش پر جنت کی بشارت دی۔

اسلام نے ماں کو بلند مقام عطا فرمایا۔ ماں کے قدموں تلے جنت رکھ کر عورت کو اللہ نے بلند مرتبہ عطا فرمایا۔ اسلام نے مرد کو پابند کیا ہے کہ وہ اپنی بیوی کی ہر ضرورت کا خیال کرے۔ نرمی و شفقت کے ساتھ پیش آئے۔ بیٹی اور بیٹے میں کسی قسم کا فرق نہ رکھے۔ اسلام نے عورت کو ہر روپ میں عزت و احترام کے قابل ٹھہرایا ہے۔

آج کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ ہر شعبہ زندگی میں اپنی قابلیت کے جھنڈے گاڑ رہی ہیں۔ آج کی عورت ڈاکٹر بھی ہے، انجینئر، کمپیوٹر کی ماہر اور قابل استاد بھی ہے۔ اس کے علاوہ فوج اور پاک فضائیہ کے اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز ہے۔ ایک فائٹر پائلٹ مریم مختار جو طیارے کے حادثے میں شہید ہوئیں، اس بات کی علامت ہیں کہ عورتیں کسی شعبے میں مردوں سے پیچھے نہیں۔

لیکن تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ کچھ لوگ ان تعلیمات کے باوجود عورت کو اس کا جائز حق نہیں دیتے۔ اسے اس کے والد کی وراثت سے محروم رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ اس کی شادی محض اس لیے نہیں کرتے کہ انھیں زمین میں حصہ دینا پڑے گا۔ حکومت کے ساتھ فلاحی تنظیمیں اس کے لیے کوشاں ہیں، مگر معاشرے میں ہمیں خود کو بھی بدلنا ہوگا۔

سوال 44. اپنے دوست کو سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے خط لکھیں۔ (سالگرہ کی مبارک باد دینے کے لیے)

لاہور
تاریخ: ……….

پیارے دوست!

السلام علیکم! آج آپ کا خط موصول ہوا۔ آپ نے لکھا ہے کہ 13 مارچ کو آپ کی چودھویں سالگرہ ہے جو نہایت سادگی مگر پروقار طریقے سے منائی جا رہی ہے۔ میں چاہتا تھا کہ اس مبارک تقریب میں خود شمولیت کروں لیکن امتحان کی مصروفیت کی وجہ سے نہیں آ سکتا۔ امید ہے آپ مجھے معاف فرمائیں گے اور میری غیر حاضری محسوس نہیں کریں گے۔

اس مبارک موقع پر میری طرف سے مبارک باد قبول فرمائیں۔ میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کی عمر دراز کرے اور آپ کی زندگی میں خوشی کا یہ دن بار بار آتا رہے۔ نانی جان اور خالہ جان کیسی ہیں؟ ان کی خدمت میں میری طرف سے سلام عرض کر دیں۔ فاطمہ کو بہت بہت پیار۔

والسلام

آپ کا دوست
ا۔ ب۔ ج

یا: “اتفاق میں برکت” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک شکاری نے جال بچھایا۔ جال کے نیچے دانے بکھیرے اور خود دور جا کر پرندوں کے جال میں پھنسنے کا انتظار کرنے لگا۔ کچھ دیر بعد کبوتروں کا ایک غول وہاں سے گزرا۔ نیچے نظر دوڑائی تو دانے بکھرے ہوئے دکھائی دیے۔ کبوتر بہت خوش ہوئے اور دانہ چگنے کے لیے نیچے اترنے لگے۔

ایک دانا کبوتر نے انھیں منع کیا کہ ان بکھرے ہوئے دانوں میں کوئی راز ہے، ہو سکتا ہے شکاری نے جال بچھا رکھا ہو۔ مگر کسی نے ان کی نہ سنی اور زمین پر اترنا شروع کر دیا۔ جیسے ہی انھوں نے دانہ چگنا شروع کیا وہ جال میں پھنس گئے۔ دانا کبوتر نے کہا: “میں نے پہلے ہی کہا تھا مگر تم نے میری ایک نہ سنی۔ لیکن خیر اب بھی وقت ہے، ہمت کر کے سب مل کر جال کو لے کر اڑ جاؤ۔”

اتنی دیر میں دور سے شکاری آتا دکھائی دیا۔ سب نے سوچا کہ اب ہمت نہ کی تو ہماری خیر نہیں۔ سب نے دانا کبوتر کی بات پر عمل کیا، زور لگایا اور جال لے کر اڑ گئے۔ شکاری حیرت سے دیکھتا رہ گیا۔ کچھ دور جا کر ایک درخت کے قریب پہنچ کر نیچے اترے، جال شاخوں میں پھنس گیا اور کبوتر آزاد ہو گئے۔

اخلاقی سبق: اتفاق میں برکت ہے۔

سوال 45. کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔

(الف) والدین کی خدمت

سب سے قریبی اور بے حد قابل احترام رشتہ ماں باپ کا ہوتا ہے۔ شیر خوار بچہ کتنا کمزور اور لاچار ہوتا ہے! خود لباس نہیں پہن سکتا اور نہ کھا سکتا ہے۔ جہاں پڑا ہو وہیں پڑا رہتا ہے۔ ہر طرح سے وہ ماں باپ کی توجہ کا محتاج ہوتا ہے۔ جوان ہونے تک ماں باپ اس کی پرورش کرتے ہیں۔ اس کی ہر سہولت کا خیال رکھتے ہیں۔ بیمار ہو جائے تو اس کے علاج کے لیے ہر کوشش کرتے ہیں۔ بچہ جب تک صحت یاب نہ ہو، وہ اس کے لیے فکر مند رہتے ہیں۔ خود کھائیں نہ کھائیں لیکن اسے ضرور کھلاتے ہیں۔ اپنی اولاد کو اچھا کپڑا پہناتے ہیں۔ اس کی پرورش اور تعلیم و تربیت میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے تاکہ بڑا ہو کر وہ عزت اور سکون سے زندگی بسر کرے۔

ماں باپ ایک دن بوڑھے اور اتنے کمزور ہو جاتے ہیں کہ کسی کام کاج کے قابل نہیں رہتے۔ اس وقت ان کی اولاد جوان اور توانا ہو چکی ہوتی ہے۔ یہی وہ وقت ہے جب ماں باپ کو اولاد کے سہارے کی اسی طرح ضرورت ہوتی ہے جیسے انھوں نے بچپن میں بچوں کو دل و جان سے دیکھ بھال کی تھی۔ ماں باپ کی خدمت کو تمام مذاہب میں فوقیت حاصل ہے۔ اسلام میں بھی ماں باپ کی خدمت کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ ماں اولاد کے لیے سب سے زیادہ دکھ اٹھاتی ہے۔ وہ اپنا سکھ نچھاور کر دیتی ہے۔ اسی لیے ماں کا رتبہ انتہائی بلند کر دیا گیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: “ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے۔” یعنی جو ماں کے ساتھ حسن سلوک کرے گا، اس کی اطاعت اور خدمت کرے گا، اسے دنیا و آخرت میں اعلیٰ مقام حاصل ہوگا۔

باپ کا مقام بھی بڑا اعلیٰ و ارفع ہے۔ باپ بچوں کے لیے دن رات محنت کرتا ہے۔ سردی، گرمی، دھوپ اور بارش جیسے موسمی حالات میں بھی وہ بچوں کی خاطر محنت مزدوری کرتا ہے تاکہ انھیں کوئی تکلیف نہ ہو۔ باپ کی اسی خدمت کے عوض اللہ نے اولاد کو باپ کی خدمت و اطاعت کا حکم دیا اور یہاں تک فرمایا کہ “رب کی رضا باپ کی رضا میں اور رب کی ناخوشی باپ کی ناخوشی میں ہے۔”

والدین کا مزاج بڑھاپے میں بڑا نازک ہو جاتا ہے۔ مرضی کے خلاف کوئی بات ہو جائے تو انھیں بڑا دکھ ہوتا ہے۔ یہ بات اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں، چنانچہ قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: “ان دونوں میں سے کوئی ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انھیں اف تک نہ کہو، نہ انھیں جھڑک کر جواب دو۔” قرآن میں ایک اور جگہ ارشاد ہوا: “اور والدین کے ساتھ حسن سلوک کرو۔” ہمیں چاہیے کہ والدین کی خدمت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھیں تاکہ ان کی دعاؤں سے دنیا و آخرت میں کامیابی نصیب ہو۔

(ب) علامہ اقبالؒ

علامہ اقبالؒ شاعر مشرق اور مفکر پاکستان ہیں۔ آپ 9 نومبر 1877ء کو پاکستان کے مشہور شہر سیالکوٹ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد کا نام شیخ نور محمد تھا۔ آپ کشمیری گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ علامہ اقبالؒ نے اپنی ابتدائی تعلیم دینی مدارس میں مکمل کی۔ پانچ سال کی عمر میں مشن ہائی اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور میٹرک تک اسی اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ آپ نے مرے کالج سیالکوٹ سے ایف اے کا امتحان پاس کیا۔ آپ نے بی اے کا امتحان 1897ء میں اور 1899ء میں فلسفہ میں ایم اے کا امتحان پاس کیا۔ پنجاب بھر میں اول پوزیشن حاصل کی۔ مولوی میر حسن سے آپ نے اسلامیات اور عربی کی تعلیم حاصل کی۔ علامہ اقبالؒ نے جرمنی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی اور ڈاکٹر کہلائے۔

آپ نے الہ آباد کے مقام پر 1930ء میں ایک خطبہ دیا جس میں آپ نے مسلمانوں کو ہندوؤں سے ہر لحاظ سے الگ قرار دیا۔ آپ ہمارے قومی شاعر ہیں۔ آپ نے غفلت کی نیند سوئے ہوئے مسلمانوں کو بیدار کیا۔ آپ نے فارسی زبان میں بھی شاعری کی ہے۔ آپ نے نوجوانوں کے لیے بے شمار نظمیں بھی لکھی ہیں۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے ہمیں فلسفۂ خودی دیا۔ اقبال کے فلسفۂ خودی سے تکبر و غرور یا گھمنڈ مراد نہیں بلکہ اپنی ذات اور اپنے نفس کی پہچان ہے۔ وہ سمجھتے تھے کہ خودی کا نام ہے ایک ایسی کیفیت جس کے نتیجے میں انسان میں ضبط نفس، اطاعت الٰہی اور نیابت الٰہی جیسی صفات پیدا ہوتی ہیں۔

خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے

اقبالؒ سچے عاشق رسول ﷺ تھے۔ آپ نے اپنی شاعری کے ذریعے مسلمانوں کو حضور ﷺ کی تعلیمات کا پابند ہو جانے کا درس دیا۔

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں

آپ کی شاعری کی مشہور تصانیف درج ذیل ہیں: (1) بانگ درا  (2) بال جبریل  (3) اسرار خودی  (4) جاوید نامہ  (5) ضرب کلیم  (6) ارمغان حجاز۔

علامہ اقبال رحمۃ اللہ علیہ 21 اپریل 1938ء کو لاہور میں وفات پا گئے۔ آپ کا مزار لاہور میں بادشاہی مسجد کے صدر دروازے کی سیڑھیوں کے پاس واقع ہے۔

★ ختم شد — ماڈل پیپر 6 (سیکنڈ ہاف) ★

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back to top button
error: Content is protected !!