PECTAA Grade 8 Urdu Model Paper 5 | First Half Book Test (Chapters 1–10)
Grade 8 Urdu Solved Model Paper Chapter 1 - 10

PECTAA Grade 8 Urdu Model Paper 5 is designed to help students prepare for their Grade 8 Urdu examinations according to the new syllabus issued by the Punjab Education, Curriculum, Training and Assessment Authority (PECTAA), Punjab. This paper covers the first half of the Grade 8 Urdu textbook, including Chapters 1 to 10, as part of a structured Urdu Chapter-Wise Test Series. Students can use this first-half book test to revise important topics, assess their understanding of the Urdu textbook, and improve their examination preparation for the PECTAA Board 2027 Model Papers. Teachers can also use this model paper for classroom assessments and regular student practice.
| Student Name (In Capital Letters) |
|---|
| Roll Number (In Figures) | –– |
|---|
| Total Marks MCQs | |
|---|---|
| Signature of Assistant | |
| Signature of Head Examiner |
خصوصی ہدایات: اس پرچے میں چالیس (40) کثیر الانتخابی سوالات دیے گئے ہیں۔ ہر سوال ایک (01) نمبر پر مشتمل ہے۔
☆ درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 31 تا 35 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔
☆ درج ذیل نظم پارے کو غور سے پڑھیں اور سوال نمبر 36 تا 40 کے درست جوابات کی نشان دہی کریں۔
| ہر درد کا ہوتا ہے درمان مدینے میں | خالق کا بھی ہوتا ہے عرفان مدینے میں |
| خاکِ در اقدس پہ رکھتی ہے جبیں دنیا | اس طرح کھلتے ہیں ارمان مدینے میں |
| ایماں کی فضائیں ہیں، ایماں کی ہوائیں ہیں | ہوتا ہے غرض کامل ایمان مدینے میں |
| Student Name (In Capital Letters) |
|---|
| Roll Number (In Figures) | –– |
|---|
| Q. No. | Marks | Signature of Sub-Examiner | Signature of | |
|---|---|---|---|---|
| Assistant | Head Examiner | |||
| 41 | ||||
| 42 | ||||
| 43 | ||||
| 44 | ||||
| 45 | ||||
| Total | ||||
یا
سوال 41: درج ذیل میں سے کوئی سے دس سوالات کے مختصر جوابات لکھیں۔
i. متضاد الفاظ کا تحریر میں کیا کردار ہے؟
جواب: متضاد الفاظ تحریر میں توازن اور زور پیدا کرتے ہیں، اور دو متضاد خیالات کے درمیان فرق واضح کرنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
ii. آلودہ پانی پینے سے عام طور پر کون سی دو (2) بیماریاں ہو سکتی ہیں؟
جواب: آلودہ پانی پینے سے ہیضہ (Cholera) اور ٹائیفائیڈ (Typhoid) جیسی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔
iii. اخبار پڑھتے وقت کس چیز پر توجہ دینی چاہیے؟
جواب: اخبار پڑھتے وقت خبر کے ماخذ کی ساکھ (Credibility) اور اس بات پر توجہ دینی چاہیے کہ خبر ٹھوس حقائق پر مبنی ہے یا محض کسی کی رائے (Opinion) ہے۔
iv. مترادف الفاظ کی تعریف کریں اور تحریر میں ان کے استعمال کا بنیادی مقصد کیا ہوتا ہے؟
جواب: مترادف الفاظ وہ ہوتے ہیں جو معنی میں ایک جیسے یا قریب قریب ہوں۔ تحریر میں ان کے استعمال کا بنیادی مقصد یہ ہوتا ہے کہ ایک ہی بات کو مختلف انداز میں بیان کر کے تکرار (Repetition) سے بچا جا سکے۔
v. پاکستان کے لوگ کس رشتے کی وجہ سے باہم جڑے ہوئے ہیں؟
جواب: پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ملک ہے جہاں مختلف تہذیب و ثقافت کے حامل لوگ اسلام کے بنیادی رشتے سے جڑے ہوئے، انگوٹھی کے نگینوں کی مانند مل کر رہتے ہیں۔
vi. شبیر شریف شہید کو کن اعزازات سے نوازا گیا؟
جواب: شبیر شریف شہید کو ستارۂ جرأت اور نشانِ حیدر سے نوازا گیا۔
vii. ”ہر ایک ہے اپنے محاذ پر” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: ”ہر ایک ہے اپنے محاذ پر” سے شاعر کی مراد ہے کہ وطن کے اندر ہر جگہ پر اور وطن کی سرحدوں پر بھی سب لوگ اپنے وطن کی حفاظت کے لیے اپنے فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔
viii. چند ایسے پاکستانیوں کا نام بتائیں جنھوں نے اپنے وطن کی ترقی کے لیے کام کیا۔
جواب: ڈاکٹر عبدالقدیر خان، ڈاکٹر عبدالسلام، ڈاکٹر مبارک، ارفع کریم۔
ix. پہلے کون سی بیماریاں مہلک ہوا کرتی تھیں؟
جواب: طاعون، ملیریا، ہیضہ جیسی بیماریاں پہلے مہلک ہوا کرتی تھیں۔
x. حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اپنی ہجرت منسوخ ہونے کا خیال کیوں آیا؟
جواب: حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو اپنی ہجرت منسوخ ہونے کا خیال اس لیے آیا کہ آپ رضی اللہ عنہ حجۃ الوداع کے موقع پر مکہ میں شدید بیمار ہو گئے۔ آپ رضی اللہ عنہ کو خدشہ لاحق ہوا کہ اگر میں یہاں فوت ہو گیا تو میری ہجرت منسوخ ہو جائے گی۔
xi. آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والی بزرگ خاتون کیوں رونے لگیں؟
جواب: آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے والی بزرگ خاتون اس لیے رونے لگیں کہ انھوں نے کہا تھا کہ میرے لیے دعا کریں کہ میں جنت میں چلی جاؤں، جس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ بوڑھی عورتیں جنت میں نہیں جائیں گی۔ جس پر وہ عورت رونے لگی۔ پھر آپ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ مراد یہ ہے کہ بوڑھی عورتیں بڑھاپے کی حالت میں نہیں بلکہ جوان ہو کر جنت میں جائیں گی۔
xii. ”خالق کا بھی ہوتا ہے عرفان مدینے میں” سے شاعر کی کیا مراد ہے؟
جواب: خالق کا عرفان مدینے میں ہونے سے مراد ہے کہ ہم آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ پر عمل پیرا ہو کر ہی خالق کو پہچان سکتے ہیں۔
xiii. مظاہر فطرت کے نام بتائیں جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے ہیں؟
جواب: سورج، چاند، ستارے، باغات، کویلیں، پھول، پرندے، بجلیاں، کھیت، دریا، جنگلات، سبزے اور تتلیوں سمیت ہر چیز اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے۔
سوال 42: درج ذیل جملوں کو توجہ سے پڑھیں اور کوئی سے پانچ غلط جملوں کو درست کر کے لکھیں۔
| جواب: | ||
| i. اسے پانی پینا ہے۔ | ii. انھیں پارک میں جانا ہے۔ | iii. سرمد کو سکول جانا ہے۔ |
| iv. ہمیں سیر کو جانا ہے۔ | v. ہمیں لاہور جانا ہے۔ | vi. تجھے اب کیا کرنا ہے۔ |
| vii. آپ کو تو خط لکھنا تھا۔ | ||
سوال 43: کسی ایک سبق کا خلاصہ لکھیں۔ سبق کے مصنف کا نام بھی تحریر کریں۔
(الف) پاکستان کی تہذیب و ثقافت
پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایسا ملک ہے جہاں مختلف تہذیب و ثقافت کے حامل لوگ اسلام کے بنیادی رشتے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہر صوبے کے الگ الگ رسوم و رواج اور طور طریقے ہیں۔ انسانوں کے رہن سہن اور زندگی بسر کرنے کے طور طریقوں سے تہذیب و ثقافت تشکیل پاتی ہے۔ پاکستان ایک وحدت ہے جس میں چاروں صوبوں کے رنگ شامل ہیں۔ ان کے لباس، کھانے، زبانیں، رسم و رواج اور طرزِ تعمیر اپنے اندر ایک انفرادیت لیے ہوئے ہیں۔ پاکستان میں مقامی تہواروں کے علاوہ مذہبی تہوار بھی منائے جاتے ہیں، جو صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ غیر مسلم بھی اپنے مذہبی تہوار مکمل آزادی سے مناتے ہیں۔ مسلمان عیدالفطر، عیدالاضحیٰ، عید میلاد النبی ﷺ، شبِ برأت، شبِ معراج اور یومِ عاشور جیسے مذہبی تہوار مناتے ہیں۔ ہندو دیوالی، دسہرہ، راکھی اور ہولی مناتے ہیں۔ مسیحیوں کے تہواروں میں ایسٹر اور کرسمس جب کہ سکھوں کے تہواروں میں بابا گرو نانک کا جنم دن اور بیساکھی کا میلہ شامل ہیں۔
عیدالفطر ایک اہم مذہبی تہوار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ رمضان المبارک کی تکمیل کی خوشی میں یہ عید کے دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ چھوٹے اور بڑے بغل گیر ہوتے ہیں۔ نمازِ عید سے پہلے کچھ میٹھا کھایا جاتا ہے جو رسول اللہ ﷺ کی سنت ہے۔ عیدالاضحیٰ کا مطلب قربانی کی عید ہے۔ یہ تہوار رمضان کے مقدس مہینے کے اختتام کے تقریباً 70 دن بعد 10 ذی الحجہ یعنی حج کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہے۔ مکہ مکرمہ میں حج ادا کیا جاتا ہے اور پوری دنیا کے مسلمان اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے ہیں۔
اسلام آباد کے مشہور مقام شکر پڑیاں میں حکومت کا ایک ادارہ لوک ورثہ واقع ہے جو ملک میں ہونے والے ثقافتی تہواروں کی نگرانی کرتا ہے۔ اس ادارے کا عجائب گھر دیکھنے کے قابل ہے۔ اس ادارے کے زیرِ اہتمام ہر سال اکتوبر کے پہلے ہفتے میں میلہ لگتا ہے جہاں 20 سے زائد ممالک کے دست کار اپنی مہارت کا جادو جگاتے ہیں۔ شندور کا علاقہ دراصل ایک درّہ ہے جہاں دنیا کی بلند ترین پولو گراؤنڈ ہے۔ یہاں پچھلے آٹھ سو سالوں سے پولو کھیلا جا رہا ہے۔ ہر سال 7 سے 9 جولائی گلگت اور چترال کے درمیان پولو میچ ہوتا ہے، ساتھ موسیقی کا انتظام بھی ہوتا ہے۔ صوبہ پنجاب اور پاکستان کے دل لاہور میں میلۂ مویشیاں کے نام سے ایک میلہ لگتا ہے جہاں اعلیٰ نسل کے مویشیوں اور پالتو جانوروں کی نمائش کی جاتی ہے۔ گھڑ دوڑ، رسا کشی، نیزہ بازی، بیلوں کی دوڑ اور گھڑ سواری کے مقابلے بھی ہوتے ہیں۔ ان تہواروں سے لوگ ایک دوسرے کے قریب آتے ہیں اور زرِ مبادلہ کمایا جاتا ہے۔
(ب) عظیم سپہ سالار
معروف صحابیِ رسول ﷺ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ مشہور عشرہ مبشرہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی شامل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار دنیا کے عظیم سپہ سالاروں میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ کا شمار بڑے تیر اندازوں میں ہوتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ ان دو خوش قسمت صحابہ میں بھی شامل ہیں جن کے لیے زبانِ رسول ﷺ سے یہ جملہ ادا ہوا کہ ”میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔”
غزوۂ احد میں حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سرکارِ دو عالم ﷺ کے ساتھ اس وقت بطور جاں نثار کھڑے تھے جب کافروں نے حضور اکرم ﷺ کا گھیراؤ کر لیا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ تیر اندازی سے دشمنوں کو پاس آنے سے روک رہے تھے۔ اس دوران پیارے آقا ﷺ نے فرمایا: ”سعد! خوب تیر برساؤ، میرے ماں اور باپ تم پر قربان ہوں۔”
غزوۂ بدر میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نہایت بہادری سے مقابلہ کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ کو ایک تلوار پسند آ گئی مگر تب تک مالِ غنیمت کا کوئی حکم نازل نہ ہوا تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ تلوار لے کر حضور اکرم ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے۔ آپ ﷺ نے حکم دیا کہ اسے اُدھر رکھ دو۔ بعد میں سورۃ الانفال کی آیات نازل ہوئیں تو آپ رضی اللہ عنہ کو بلا کر وہ تلوار آپ کے حوالے کر دی گئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نے غزوۂ احد، خندق اور حنین سمیت ہر معرکے میں حصہ لیا۔
حجۃ الوداع کے موقع پر آپ رضی اللہ عنہ مکہ میں تھے، وہاں بیمار ہو گئے۔ بیماری اس قدر بڑھ گئی کہ آپ کو فکر لاحق ہوئی کہ اگر میں یہاں وفات پا گیا تو میری ہجرت ضائع ہو جائے گی۔ رسول کریم ﷺ آپ رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لیے تشریف لائے۔ حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ! میرا مرض اس حد کو پہنچ گیا ہے اور میرے پاس مال کافی ہے، کیا میں دو تہائی خیرات کر دوں؟ آپ ﷺ نے انکار فرمایا۔ پھر عرض کیا: آدھا؟ آپ ﷺ نے پھر انکار کیا۔ پھر عرض کیا: ایک تہائی کر دوں؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ایک تہائی بھی بہت ہے۔ تم اپنے وارثوں کو مال چھوڑ کر جاؤ تاکہ انھیں کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔ پھر آپ ﷺ نے بشارت دی کہ تم ابھی زندہ رہو گے اور تم سے مسلمانوں کو نفع ہوگا۔ بعد میں یہ بات سچ ثابت ہوئی۔
آپ رضی اللہ عنہ صحت مند بھی ہوئے اور بڑی کامیابیاں بھی حاصل کیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں آپ کو کوفہ کا گورنر بنایا گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے جنگِ قادسیہ میں مسلمانوں کے لشکر کی قیادت کی اور ایران فتح کیا۔ پھر عراق کی طرف بڑھے۔ راستے میں دریائے دجلہ آ گیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے اپنے گھوڑے دریا میں ڈال دیے جس سے دشمن فوج یہ کہہ کر بھاگ گئی کہ دیو آ گئے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے عراق بھی فتح کر لیا۔ وفات سے قبل مدینہ منورہ سے قریباً 10 میل دور ایک مقام پر رہائش پذیر ہو گئے اور وہیں وفات پائی۔ پاک بحریہ نے آپ رضی اللہ عنہ کی بہادری اور شجاعت کی بدولت اپنی پہلی آبدوز کا نام ”سعد” رکھا ہے۔
سوال 44: اپنے دوست کے نام بہن کی شادی سادگی سے کرنے کی تلقین کرنے کے لیے خط لکھیں۔
(بہن کی شادی سادگی سے کرنے کی تلقین کرنے کے لیے)
گجرات
تاریخ: …………..
پیارے دوست محمد ثقلین!
السلام علیکم و رحمۃ اللہ! کل آپ کی طرف سے خط ملا۔ خط کے ساتھ ایک دعوت نامہ بھی تھا جس میں بہن کی شادی کا پروگرام درج تھا۔ آپ نے لکھا ہے کہ یہ شادی دھوم دھام سے ہو رہی ہے۔ قیمتی ملبوسات اور زیورات کے علاوہ بھاری جہیز بھی دیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ مہمانوں کے لیے ایک شان دار ہال میں پُرتکلف کھانے کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔
پیارے دوست! مجھے اس شادی کی دلی مسرت ہے مگر آپ کے بے جا اسراف پر دلی افسوس بھی ہوا ہے۔ اسلام ہمیں سادگی کی تعلیم دیتا ہے اور کفایت شعاری کامیاب زندگی کی علامت ہے۔ اس لیے میری خواہش ہے کہ آپ یہ شادی انتہائی سادگی سے کریں۔ مجھے آپ کے کنبے کی آمدنی کا بھی علم ہے۔ قرض لے کر برادری میں ناک کٹ جانے کے خوف سے غیر اسلامی رسومات پر خرچ کرنا کہاں کی عقل مندی ہے؟ میں نے یہ اصول بنا رکھا ہے کہ کسی ایسی تقریب میں شرکت نہ کروں جہاں فضول خرچی اور خلافِ اسلام رسومات کا مظاہرہ ہو۔ اگر آپ لوگ سادگی سے کام نہ لیں گے تو میں حاضر ہونے سے قاصر ہوں۔ امید ہے آپ میری صاف گوئی پر ناراض نہیں ہوں گے۔
گھر والوں کو میرا سلام۔
والسلام
آپ کا دوست
ا۔ ب۔ ج
یا — ”جھوٹ کی سزا” کے عنوان پر کہانی لکھیں۔
کہتے ہیں کسی گاؤں میں ایک گڈریا رہا کرتا تھا۔ وہ جنگل میں اپنی بکریاں چرانے کے لیے جایا کرتا اور دن ڈھلے لوٹ آتا تھا۔ ایک دن اُسے ایک شرارت سوجھی۔ اُس نے زور زور سے چلانا شروع کر دیا: ”شیر آیا! شیر آیا!” گاؤں کے لوگوں نے جب یہ آواز سنی تو سمجھا کہ گڈریے پر شیر نے حملہ کر دیا ہے۔ وہ لاٹھیاں لے کر اُس کی مدد کو پہنچ گئے، لیکن وہاں کوئی شیر نہ تھا۔ گڈریا ہنس پڑا۔ لوگوں نے پوچھا: ”میاں! کہاں ہے شیر؟” گڈریا بولا: ”میں تو صرف دل لگی کر رہا تھا۔” یہ بات سن کر لوگوں کو بہت غصہ آیا اور وہ گڈریے کو برا بھلا کہتے ہوئے چلے گئے۔ کچھ دن بعد گڈریے کو پھر وہی شرارت سوجھی اور اُس نے پھر سے چلانا شروع کر دیا: ”شیر آیا! شیر آیا!”
لوگ پھر اس کی مدد کو دوڑے لیکن دیکھا کہ گڈریا مسکرا رہا ہے۔ لوگوں کے غصے کی کوئی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے گڈریے کو کوستے ہوئے یہ کہہ کر واپس چلے گئے کہ آئندہ تمھاری کسی پکار پر کان نہیں دھریں گے۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ ایک دن سچ مچ شیر نکل آیا۔ بکریوں کا ریوڑ دیکھ کر شیر خوش ہو گیا اور بکریوں پر حملہ کر دیا۔ گڈریے نے بہت شور مچایا لیکن کوئی اُس کی مدد کو نہ آیا۔ بکریاں بے چاری ادھر اُدھر بھاگ رہی تھیں اور شیر اُن کا شکار کر رہا تھا۔ آخر سارا ریوڑ شیر کا شکار ہو گیا۔ جب شام تک گڈریا گھر نہ لوٹا تو گاؤں والے اسے تلاش کرتے ہوئے جنگل پہنچے تو وہاں مردہ بکریوں اور مرے ہوئے گڈریے کے سوا کچھ نہ تھا۔ گڈریے کو جھوٹ کی بڑی بھیانک سزا مل چکی تھی۔
اخلاقی سبق: جھوٹ کا انجام بُرا ہوتا ہے۔
سوال 45: کسی ایک موضوع پر کم از کم 200 الفاظ پر مشتمل مضمون تحریر کریں۔
(الف) سائنس کے کرشمے
سائنس کے ذریعے ایسی ایجادات ہوئی ہیں کہ ایک صدی پہلے کا انسان آج زندہ ہو جائے تو دنیا کو پہچان نہیں سکے گا۔ اس نے اپنے زمانے میں بیل گاڑیاں دیکھی تھیں، اب ہوائی جہاز ایجاد ہو چکے ہیں۔ وہ روشنی حاصل کرنے کے لیے چراغ جلایا کرتا تھا، آج برقی قمقموں سے دنیا روشن ہے۔ جس سفر کو طے کرنے میں مہینوں لگ جاتے تھے، آج چند گھنٹوں میں دنیا کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک پہنچا جا سکتا ہے۔ وہ یہ دیکھ کر بھی حیران ہوگا کہ انسان چاند پر کس طرح پہنچ گیا اور شاید وہ اس حقیقت کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دے۔ وہ تلوار سے لڑا کرتا تھا مگر آج ایسے ایٹم بم ایجاد ہو چکے ہیں جو پلک جھپکنے میں پوری دنیا کو تباہ کر سکتے ہیں۔
سائنس کی بدولت ہمارا انداز فکر اور طرزِ عمل بھی بدل گیا ہے۔ زمانۂ قدیم میں انسان جن چیزوں کی پرستش کرتا تھا آج انھیں اپنے پیروں تلے روند رہا ہے۔ وہ صرف چاند پر پہنچنے تک اکتفا نہیں کر رہا بلکہ اس سے بھی آگے نکلنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔ سائنس کے ذریعے انسان دنیا کے ہر حصے تک پہنچ گیا ہے۔ آج کی نئی اور بڑی دل چسپ ایجاد کمپیوٹر ہے۔ کمپیوٹر سسٹم کے ذریعے مصنوعی انسان (روبوٹ) بھی بنا لیا گیا ہے جو ایک ملازم کی جگہ کام کر رہا ہے۔ حساب کتاب کے معاملے میں بھی کمپیوٹر سے بہت سہولت پیدا ہو گئی ہے۔ اب خود کار مشینیں تیار ہو گئی ہیں جن میں افرادی قوت کی بہت کم ضرورت پڑتی ہے۔
سائنس نے ہر جہت میں ترقی کی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب بجلی کو ایک مہلک قوت تصور کیا جاتا تھا۔ آج انسان اسی سے مشینری چلا رہا ہے، روشنی حاصل کر رہا ہے اور تفریح کا سامان پیدا کر رہا ہے۔ اس کے ذریعے معلوماتِ عامہ کا حصول بہت آسان ہو گیا ہے۔ اب آپ گھر بیٹھے لندن کی خبریں سن سکتے ہیں۔ روزانہ اخبارات کے لیے بیرونی ممالک سے خبریں آتی ہیں۔ ٹیلی ویژن پر آپ جرمنی میں ہونے والے میچ گھر بیٹھے دیکھ سکتے ہیں۔ ٹیلی فون کے ذریعے آپ لندن میں بیٹھے اپنے عزیز و اقارب سے یوں بے تکلف گفتگو کر سکتے ہیں جیسے وہ آپ کے سامنے بیٹھے ہوں۔
شعبۂ طب میں بھی سائنس بہت آگے نکل گئی ہے۔ پہلے تپِ دق کا علاج نہیں ہوتا تھا اور اسے لا علاج مرض سمجھا جاتا تھا مگر اب تپِ دق لا علاج مرض نہیں بلکہ قابلِ علاج مرض ہے۔ اندھوں کو آنکھیں، بہروں کو کان اور لنگڑے لولوں کو ٹانگیں مل رہی ہیں۔ سرجری نے حیرت انگیز حد تک ترقی کر لی ہے۔ آج دماغ کا آپریشن بھی ہو سکتا ہے اور دل بھی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
جس تیزی سے آبادی بڑھ رہی ہے اگر سائنس کے ذریعے زرعی پیداوار میں ترقی نہ ہوتی تو یقیناً خوراک کی شدید کمی ہو جاتی۔ زرعی آلات اور کھاد کے ذریعے کاشت کار ایک فصل کی بجائے تین چار فصلیں لینے لگا ہے اور فی ایکڑ پیداوار میں بھی کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔
مسلسل تحقیق ہو رہی ہے کہ کوئی ایسی شے ایجاد کر لی جائے کہ انسان خوراک کا محتاج ہی نہ رہے اور کبھی کبھار ایک گولی کھا لینے سے زندہ رہ سکے۔ سڑکوں پر ٹریفک بہت زیادہ ہو گئی ہے، ایسا آلہ ایجاد کیا جائے جسے انسان بغلوں میں لے کر ہوا میں اڑ سکے۔ پہلے زمانے میں سفر کو ایک مصیبت خیال کیا جاتا تھا۔ آج دوری کی یہ مشکل ختم ہو چکی ہے۔ آج قافلوں کا انتظار کرنے کی ضرورت نہیں۔ بس ٹکٹ لو اور منٹوں میں سفر طے ہو جائے، کوئی دشواری نہیں۔
سائنس نے ہمیں مفید چیزیں ہی نہیں دیں بلکہ سائنس دانوں نے ایسی چیزیں بھی تیار کر لی ہیں جو انسان کے لیے ہلاکت کا باعث ہیں۔ انھوں نے ایسے ایٹم بم بنا لیے ہیں جو اس قدر تباہی مچا سکتے ہیں کہ جہاں گرتے ہیں وہاں زندگی کا نام و نشان نہیں رہتا اور زمین تانبے کی طرح سرخ ہو کر صدیوں تک کسی نئی زندگی کے لیے موزوں نہیں رہتی۔ یہ سائنس کا قصور نہیں، یہ محض اندازِ فکر کا فرق ہے۔ سائنس کا اچھا یا برا ہونا اس کا استعمال کرنے والے پر منحصر ہے۔ ایک سائنس دان خلقِ خدا کی بہتری کے لیے کوئی شے ایجاد کرتا ہے، دوسرا اسے تباہ کرنے کے لیے بم بناتا ہے۔ کوئی ایٹم سے ملک و ملت کے لیے آسانیاں پیدا کرتا اور توانائی کو مثبت اغراض کے لیے استعمال کرتا ہے، دوسرا تباہی کے لیے۔ یہ ان لوگوں کا قصور ہے جو منفی اندازِ فکر رکھتے ہیں اور انسانیت سے پیار نہیں کرتے۔ ان کے دلوں میں خوفِ خدا نہیں۔ وہ یہ بھی بھول گئے ہیں کہ ایک دن انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے اور ہر عمل کا جواب دینا ہے۔
(ب) دیہاتی اور شہری زندگی میں فرق
پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ اس کی اکثریت دیہات میں آباد ہے۔ ملک کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے۔ دیہات کی فضا کھلی ہوتی ہے۔ غذا خالص ملتی ہے۔ ہوا بھی تازہ ہوتی ہے۔ شہروں میں کھلی فضا بہت کم میسر ہوتی ہے۔ بلند و بالا عمارتیں صاف اور تازہ ہوا کو روک دیتی ہیں۔ اکثر لوگ تنگ و تاریک گلیوں میں رہتے ہیں۔ شہر میں رہنے والے لوگوں کو خالص غذا میسر نہیں ہوتی جب کہ دیہات میں رہنے والے خالص غذا استعمال کرتے ہیں۔ اس طرح ان کی صحت بھی اچھی رہتی ہے۔
دیہات میں رہنے والے لوگ سادہ ہوتے ہیں۔ ان میں خلوص ہوتا ہے۔ ان میں بناوٹ نہیں ہوتی۔ ان میں شرافت اور ملنساری ہوتی ہے۔ یہ لوگ نمائشی زندگی کو پسند نہیں کرتے اور دکھ سکھ میں ایک دوسرے کے ساتھی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس شہری لوگ خلوص سے عاری ہوتے ہیں۔ شہروں میں بسوں، گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں کا دھواں آلودگی پھیلاتا ہے۔ ٹریفک کا شور بھی بہت ہوتا ہے۔ دیہات میں زندگی پُرسکون ہوتی ہے۔ ایک جگہ سے دوسری جگہ کے لیے فاصلے چوں کہ کم ہوتے ہیں اس لیے لوگ پیدل ہی سفر کرتے ہیں۔ ٹریفک کا شور بھی نہیں ہوتا۔ زندگی پُرسکون ہوتی ہے اور ہوا آلودگی سے پاک ہوتی ہے۔
شہری زندگی بہت مصروف ہوتی ہے۔ لوگوں کو ایک دوسرے سے ملنے کی بھی فرصت نہیں ہوتی۔ دوستی بھی مفاد کی بنیاد پر ہوتی ہے۔ اس کے برعکس دیہاتی زندگی سادہ ہوتی ہے۔ لوگوں کے پاس ایک دوسرے کے لیے وقت ہوتا ہے۔
شہروں میں تعلیم کے بہتر مواقع ہوتے ہیں۔ دیہاتوں میں تعلیم کا معیار اتنا بلند نہیں ہوتا۔ دیہات میں لوگ بچوں کو زیادہ تعلیم نہیں دلواتے۔ دیہات میں درس گاہیں معیاری نہیں ہوتیں۔ ضروریاتِ زندگی بھی آسانی سے میسر نہیں ہوتیں۔ اس کے برعکس شہروں میں ضروریاتِ زندگی آسانی سے مل جاتی ہیں۔ دیہات میں اگر کسی شخص کو کوئی بیماری لاحق ہو جائے تو اُسے علاج معالجے کی سہولت دست یاب نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس شہروں میں طبی سہولیات ہوتی ہیں۔ بڑے بڑے ہسپتال ہوتے ہیں جہاں علاج معالجے کی سہولیات بروقت دست یاب ہوتی ہیں۔
شہروں میں کاروبار کے زیادہ مواقع ملتے ہیں۔ شہروں میں فیکٹریاں بھی ہوتی ہیں۔ دیہات میں لوگوں کی گزر بسر کا انحصار صرف زراعت اور کاشت کاری پر ہوتا ہے۔ دیہاتوں میں بھی کام کرنے کے لیے آج کل افراد کی جگہ ٹریکٹر اور دیگر مشینوں نے لے لی ہے۔
