اسرائیل کی تہران کے تین لاکھ شہریوں کو نکل جانے کی ہدایت

ٹرمپ کی وارننگ کے بعد اسرائیل کی تہران کے تین لاکھ شہریوں کو نکل جانے کی ہدایت
اسرائیل نے تہران میں رہنے والے لاکھوں لوگوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ شہر کو فورا خالی کر دیں، جس کے بعد لڑائی خطرناک موڑ مڑتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔
خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایک سنگین نوعیت کا پیغام سوموار کو رات گئے سامنے آیا تھا جس میں انہوں نے تہران کو فوری طور پر خالی کیے جانے کا مطالبہ کیا تھا۔
سوشل میڈیا پر انہوں نے پوسٹ میں لکھا کہ ’ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا اور ہر کسی کو تہران سے نکل جانا چاہیے۔‘
قبل ازیں وائٹ ہاؤس کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیل ایران لڑائی میں شدت کے باعث جی سیون اجلاس کو اچانک چھوڑ کر واپس روانہ ہو رہے ہیں۔
شہر کو خالی کرنے کی وارننگ کے بعد وہاں مقیم تین لاکھ 30 ہزار کے قریب افراد متاثر ہو رہے ہیں جبکہ ایران کا ریاستی ٹی وی مرکز اور پولیس ہیڈکوارٹرز بھی اسی شہر میں واقع ہیں۔
اسرائیلی فوج نے ایسی ہی وارننگ غزہ اور لبنان کے کچھ حصوں پر حملوں سے قبل جاری کی تھی۔
صدر ٹرمپ کی ٹیم نے تجویز پیش کی ہے کہ ایران اسی ہفتے جنگ بندی اور جوہری معاہدے سے متعلق مذاکرات کرے۔
رپورٹس کے مطابق امریکہ اپنے ایلچی سٹیو وٹ کی ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے ساتھ اسی ہفتے ملاقات کے حوالے سے بات چیت کر رہا ہے، جس میں جنگ بندی اور جوہری معاہدے پر مشاورت ہو گی۔
دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان ایلیکس فیفر کا کہنا ہے کہ ’مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی افواج کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور ان کی اس پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔‘
ان کے مطابق ’امریکی مفادات کا تحفظ کیا جائے گا۔‘



