
Prepare for the Grade 11 Urdu Annual Examination 2027 with the ALP Smart Syllabus Urdu Solved Model Paper 2027, developed according to the new syllabus issued by PECTAA Punjab. This comprehensive Class 11 Urdu Test Series is designed to support students in their board examination preparation through a variety of assessment materials, including Class Test 1, Full Book Test, and Chapter Wise Test Series. These Punjab Board 2027 Model Papers provide solved questions and answers to help students understand important topics, improve Urdu language skills, and prepare confidently for the Annual Examination. Practise these Grade 11 Urdu Solved Model Papers to strengthen your preparation according to the latest Punjab Board syllabus and examination requirements.
ماڈل پیپر
1۔ ہر سوال کے چار ممکنہ جوابات A، B، C اور D دیے گئے ہیں۔ جوابی کاپی پر ہر سوال کے سامنے دیے گئے دائروں میں سے درست جواب کے مطابق متعلقہ دائرے کو مارکر یا پین سے بھر دیجیے۔ ایک سے زیادہ دائروں کو پُر کرنے یا کاٹ کر پُر کرنے کی صورت میں مذکورہ جواب غلط تصور ہوگا۔ (1×20=20)
1۔ مرزا غالبؔ نے اپنے مکتوب بنام ہرگوپال تفتہ میں بیماری کا ذکر کیا ہے:
2۔ روم میں چالان کے جرمانے کی رقم جمع کرانے کا عام ذریعہ تھا:
3۔ استاد منگو نے لڑائی کی پیشین گوئی کی:
4۔ اگر انسان کوئی کام اختیار کرے اور اس پر استقلال کے ساتھ قائم رہے، اسے کہتے ہیں:
5۔ مرزا اشرف زور رشتے میں ابوظفر بہادر شاہ کے تھے:
6۔ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا ____ :
7۔ مشبہ اور مشبہ بہ کہلاتے ہیں:
8۔ وہ لفظ یا الفاظ جو اشعار میں قافیے کے بعد بار بار آئیں، کہلاتے ہیں:
9۔ اشعار میں ردیف سے قبل آنے والے ہم آواز الفاظ کو کہتے ہیں:
10۔ ’’گلی میں نکلا چاند‘‘ میں استعارہ ہے:
11۔ کنایہ کے لغوی معنی ہیں:
12۔ اگر غزل میں دوسرے شعر کے دونوں مصرعے بھی ہم قافیہ ہوں تو اسے کہتے ہیں:
13۔ اس ____ عتاب جان لیوا ہے:
14۔ دو مصرعے جو ایک ہی وزن کے ہوں اور ایک ہی خیال کو ظاہر کریں، کہلاتے ہیں:
15۔ ان میں سے تلمیح ہے:
16۔ ’’اُس کی وہ جانے، اُسے پاسِ وفا تھا کہ نہ تھا / تم فراز اپنی طرف سے تو نبھاتے جاتے‘‘ یہ شعر اصطلاح میں ہے:
17۔ ’’آب آب ہونا‘‘ سے مراد ہے:
18۔ اس قلم ____ نب خراب ہے:
19۔ ’’پاؤں پڑ بیلنا‘‘ قواعد کی رو سے ہے:
20۔ صنعتِ تضاد کا تعلق ہے:
انشائی طرز
(حصہ اوّل)
2۔ (الف) درج ذیل نظمیہ اجزا میں سے کسی ایک جُز کی آسان تشریح کیجیے۔ نظم کا عنوان اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے: (10=1+1+8)
| کس کے لیے سرودِ صبا ہے چمن چمن | کس کے لیے نمودِ ضیا ہے اُفق اُفق |
| مکتوم کس کی موجِ کرم ہے صدف صدف | مرقوم کس کا حرفِ وفا ہے اُفق اُفق |
| فضائیں کہہ رہی ہیں ذوقِ ایثار و عمل پیدا | لہو میں دوڑتا ہے شعلۂ تاثیرِ آزادی |
| لہو موسم نے رویا، گردشِ گردوں نے رخ بدلا | مرے خوابوں میں نازل ہوگئی تعبیرِ آزادی |
(ب) درج ذیل غزلیہ اجزا میں سے کسی ایک جُز کی تشریح کیجیے۔ شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے: (10=1+3+3+3)
| چھلکائے ہوئے چلنا، خوشبو لبِ لعلیں کی | اک باغ سا ساتھ اپنے، مہکائے ہوئے رہنا |
| اُس حسن کا شیوہ ہے، جب عشق نظر آئے | پردے میں چلے جانا، شرمائے ہوئے رہنا |
| اک شام سی کر رکھنا، کاجل کے کرشمے سے | اِک چاند سا آنکھوں میں، چمکائے ہوئے رکھنا |
| کس شباہت کو لیے آیا ہے دروازے پہ چاند | اے شبِ ہجراں! ذرا اپنا ستارہ دیکھنا |
| کیا قیامت ہے کہ جن کے نام پر پسپا ہوئے | اُن ہی لوگوں کو مقابل میں صف آرا دیکھنا |
| جیتنے میں بھی جہاں جی کا زیاں پہلے سے ہے | ایسی بازی ہارنے میں کیا خسارہ دیکھنا |
(حصہ دوم)
3۔ سیاق و سباق کے حوالے سے کسی ایک جُز کی تشریح کیجیے۔ مصنف کا نام اور سبق کا عنوان بھی لکھیے: (10+3+1+1=15)
اب ہم کھانے کی فکر کیوں کہ اناج سب بھیگ کر سڑ گیا تھا۔ گاؤں والوں سے بھی مانگتے ہوئے لحاظ آتا تھا۔ وہ بھی ہماری طرح اس مصیبت میں گرفتار تھے، تاہم بے چارے گاؤں کے چودھری کو خود ہی خیال ہوا اور اس نے قطب صاحب سے ایک روپے کا آٹا منگوا دیا۔ وہ آٹا نصف کے قریب خرچ ہوا ہوگا کہ رمضان شریف کا چاند نظر آیا۔ والدہ صاحبہ کا دل بہت نازک تھا۔ وہ ہر وقت گزشتہ زمانے کو یاد کیا کرتی تھیں۔ رمضان کا چاند دیکھ کر انھوں نے ایک ٹھنڈا سانس بھرا اور چپ ہوگئیں۔ میں سمجھ گیا کہ ان کو پچھلا زمانہ یاد آ رہا ہے۔ تسلی کی باتیں کرنے لگا جس سے ان کو کچھ ڈھارس ہوگئی۔
اُستاد منگو کو گوروں سے بے حد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہوگئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا ان کے پیسے چھوڑنا بھی بے وقوفی ہے۔ کلفی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کر دیے ہیں، ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔
4۔ کسی ایک نثری سبق کا خلاصہ لکھیے اور مصنف کا نام بھی تحریر کیجیے: (10=1+9)
5۔ کسی ایک نظم کا خلاصہ یا مرکزی خیال لکھیے اور شاعر کا نام بھی تحریر کیجیے: (5=1+4)
6۔ دو سہیلیوں کے درمیان کمپیوٹر، انٹرنیٹ کے مثبت اور منفی استعمال پر مکالمہ تحریر کیجیے۔ یا شجر کاری مہم کی تقریب کی روداد قلم بند کیجیے۔ (10)
7۔ پرنسپل کے نام شادی میں شمولیت کے لیے رخصت کی درخواست تحریر کیجیے۔ یا رسید بابت وصولی رقم موٹر سائیکل تحریر کیجیے۔ (10)
8۔ درج ذیل عبارت کی تلخیص کیجیے اور مناسب عنوان بھی تحریر کیجیے۔ (10=8+2)
قدرت نے نواب محسن الملک کو بہت سی خوبیاں عطا کی تھیں۔ وجاہت، ذہانت، خوش بیانی اور فیاضی ان کی ایسی عام اور ممتاز صفات تھیں کہ ایک راہ چلتا بھی چند منٹ کی بات چیت میں معلوم کر لیتا تھا۔ خطاب یا نام انکل سے رکھ دیے جاتے ہیں۔ مسمّٰی کی خصوصیات کا ان میں مطلق لحاظ نہیں ہوتا۔ نام رکھتے وقت تو ممکن ہی نہیں۔ عطائے خطاب کے وقت بھی اس کا لحاظ نہیں کیا جاتا لیکن محسن الملک کا خطاب ان کے لیے بہت ہی موزوں نکلا۔ کوئی ہو، کہیں کا ہو، اُن سے پُھو نہیں اور کندن کا ہُوا نہیں۔ اگر کسی نے سلام بھی کر لیا تو ان پر اس کا بار رہتا تھا اور جب تک اس کا معاوضہ نہ کر لیتے انھیں چین نہ آتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنے دشمن کو بھی نہ بھولتے تھے اور یہ میں ذاتی علم سے کہتا ہوں کہ وہ بھی ان کے زیرِ بارِ منت تھے۔

