MARKING CENTER MATRIC 2017 COLONY HIGH SCHOOL KHANPUR

Logo Visit Report

Jang Multan

19-4-2017

MARKING CENTER MATRIC 2017 COLONY HIGH SCHOOL KHANPUR
MARKING CENTER MATRIC 2017 COLONY HIGH SCHOOL KHANPUR

 

مارکنگ سنٹر برائے میٹرک کالونی ہائی سکول خان پور
2017 میں میٹرک کا امتحان دینے والے طلبا کا مستقبل خطرے میں۔
اطلاعات کے مطابق بہاولپور بورڈ کی طرف سے دسویں جماعت کے پرچے مارکنگ کے لئے گورنمنٹ کالونی سیکنڈری سکول خان پور بھجے گئے تھے۔ اس ضمن میں یہاں پر ریاض صاحب جو کہ اسی سکول کے پرنسپل ہیں نگران مقرر کئے گئے تھے۔جب کہ سرفراز صاحب جو کہ گورنمنٹ سیکنڈری سکول 111NP کے ہیڈ ماسٹر کو سپر وائزر مقرر کیا گیا تاکہ مارکنگ سینٹر کو بہتر انداز میں چلایا جا سکے۔
بہاول پور بورڈ کے قوانین کے مطابق میٹرک کے پرچہ جات کو صرف وہی شخض چیک کر سکتا ہے۔ جس نے کم ازکم تین سال میٹرک لیول پر اس مضمون کو پڑھایا ہو جس مضمون کے وہ پرچے چیک کر رہا ہے۔ لیکن اس وقت خان پور میں مارکنگ سنٹر کی صورتحال ہی مختلف ہے۔ اس سینٹر پر مارکنگ کرنے والے ذیادہ تر اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے اج تک نویں ودسویں کو پڑھایا ہی نہیں ہے۔ایسے اساتذہ کس طرح پرچوں کے سوالات کو سمجھ سکیں گے۔ ایسے اساتذہ صرف پیسہ کمانے کے چکر میں بچوں کا مستقبل تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ اس میں بہاولپور بورڈ کا عملہ بھی شامل ہے۔
والدین نے شدید احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چیرمین بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن بہاولپور پور سے مطالبہ کیا ہے کہ ڈی ای او سیکنڈری ایجوکیشن سے پچھلے تین سالوں کے رزلٹ پروفارمہ جات منگوا کر چیک کیا جا ئے کہ ان میں سے کتنے اساتذہ ہیں جو میٹرک لیول پر پڑھا رہے ہیں۔ ان اساتذہ میں سے تقریبا تمام اساتذہ ایسے ہیں جنہوں نے اج تک سیکنڈری کلاسز کو نہیں پڑھایا۔
اس کے بعد اس سنٹر کے عملہ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے۔
جب چند والدین نے مختلف ہائی سکولز کے ہیڈ ماسٹرز سے رابطہ کیا تو ان لوگوں نے اس بات سے صاف انکار کردیا کہ ان ٹیچرز کو میٹرک کے پرچہ جات مارک کرنے کی اجازت دی ہے۔ ان ہیڈ ماسٹر ز کا یہ بھی کہنا تھا کہ EST اساتذہ کرام خود ہی بہاولپور بورڈ سے ڈیوٹیاں لگوا لاتے ہیں۔اور مارکنگ سکی اوقات کے بعد ہوتی ہے ۔ لہذا ہم ان سے اس بارے میں سوال نہیں کرتے۔اب یہ بورڈ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈیوٹیاں لگاتے وقت صرف ایس ایس ٹی اساتذہ کی ڈیوٹی لگائیں اور حرام کھانے سے اجتناب برتیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *